خادم حسین رضوی کا مزار کسی دوسرے شہر میں منتقل کیا جارہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ احتجاج نے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے جس کے بعد پارٹی اور اس کے مظاہرین کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے۔
فلسطین کے معاملے پر ٹی ایل پی کے احتجاج کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں میں کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور شہر کی ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعد رضوی کے گھر سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے اور سونا برآمد، متعدد سوالات نے جنم لے لیا
احتجاج کے دوران ٹی ایل پی کارکن لاہور سے نکل کر مریدکے پہنچ گئے، جہاں پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ اس آپریشن کے بعد حکومت نے سخت فیصلہ کرتے ہوئے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی اور اسے کالعدم جماعت قرار دے دیا۔
اس تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پنجاب حکومت کو تجویز پیش کی کہ ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی کا مزار، جو ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے قریب واقع ہے، لاہور سے اٹک، راجن پور یا کسی دوسرے شہر منتقل کیا جائے۔
اداروں کا موقف تھا کہ ہر سال چہلم کے دنوں میں مزار کی موجودگی سے نہ صرف ملتان روڈ پر ٹریفک کی روانی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ ٹی ایل پی کارکن اسے جواز بنا کر شہر میں افراتفری بھی پھیلا سکتے ہیں۔ تاہم، پنجاب حکومت نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اہم اعلان کیا ہے۔
حکومتی مؤقفپنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق، خادم حسین رضوی کے مزار کو لاہور سے کہیں اور منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ مزار، 19 نومبر 2020 کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے بعد ان کے گھر کے قریب تعمیر کیا گیا تھا، اب محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ محکمہ اوقاف اس کی دیکھ بھال اور انتظامات سنبھالے گا۔
یہ بھی پڑھیے: سعد رضوی اور مولانا اشرف جلالی کیخلاف نیدر لینڈز کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت، معاملہ کیا ہے؟
ذرائع نے واضح کیا کہ مزار کی موجودہ جگہ پر ہی اسے برقرار رکھا جائے گا اور اسے منتقل کرنے کی تجویز پر فی الحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
محکمہ اوقاف کا موقفوی نیوز سے بات کرتے ہوئے ترجمان محکمہ اوقاف کا کہنا تھا کہ خادم حسین رضوی کا مزار اور مسجد اس وقت ضلعی حکومت کے کنٹرول میں ہے، انہوں نے مزار اور مسجد کو سیل کر رکھا ہے، ابھی تک مزار اور مسجد کے انتظامات محکمے اوقاف کے حوالے نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: سعد رضوی مفرور، مظاہرین کے تشدد سے 60 پولیس اہلکار معذور ہو چکے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور
انہوں نے کہا کہ 19 نومبر کو مولانا خادم حسین رضوی کا چہلم ہوگا یا نہیں اس حوالے سے بھی ہمیں ضلعی حکومت کی جانب سے آگاہ نہیں کیا گیا، اس وقت کنٹرول ضلعی حکومت کے پاس ہے، جب ہمارے پاس اس مزار کا کنٹرول آئے گا تبھی کچھ آگاہ کر سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Khadim hussain rizvi TLP تحریک لبیک پاکستان خادم حسین رضوی مزار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک لبیک پاکستان خادم حسین رضوی خادم حسین رضوی کا محکمہ اوقاف ٹی ایل پی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔