Jasarat News:
2026-07-24@05:15:57 GMT

یوم سیاہ کشمیر ہر سال

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-03-5

 

جمیل احمد خان

ستائیس اکتوبر کو اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ہم کشمیری عوام کے جائز حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ یہ دن اس تاریخی سانحے کی یاد دلاتا ہے جب انیس سو سینتالیس میں بھارت نے اپنی فوجیں سرینگر میں اُتار کر جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کی بنیاد رکھی۔ یہ قبضہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی ضمیر کے بھی منافی تھا۔ کشمیر جسے قدرت نے جنت نظیر بنا کر زمین پر اُتارا، اس جنت کو ظلم و درندگی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر غلامی کے طوق کو قبول نہیں کیا۔ ستائیس اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی عوام سیاہ پرچم لہرا کر اس دن کو یوم احتجاج کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے پر اپنی خاموشی توڑے اور انصاف کی حمایت میں آواز بلند کرے۔

 

کشمیر کا مسئلہ برصغیر کی تقسیم کے وقت اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آیا اور اس کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیری عوام اپنی مرضی سے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس کہ بھارت نے ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور طاقت کے زور پر وادی کو قید خانے میں بدل دیا۔ ہر گلی کوچے میں فوجی چوکیاں، ہر دروازے پر بندوق، ہر آنکھ میں خوف اور ہر دل میں امید کا دیا جلتا ہے کہ شاید ایک دن آزادی کی صبح طلوع ہو۔ بھارتی مظالم کی داستانیں وقت کے صفحات پر خون سے لکھی جا رہی ہیں۔ عصمت دری، جبری گمشدگیاں، اندھادھند فائرنگ، محاصرہ اور اظہار کی آزادی پر پابندیاں کشمیر کے روزمرہ کا المیہ بن چکے ہیں۔ دو ہزار انیس میں بھارتی حکومت نے آرٹیکل تین سو ستر منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی، جس کے بعد وادی میں ایک اور سیاہ دور کا آغاز ہوا۔ ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، میڈیا کی زبان پر تالے لگا دیے گئے۔ مگر آزادی کے متوالے کشمیری نہ جھکے نہ رکے۔ انہوں نے اپنے خون سے عزم و استقلال کی ایسی تاریخ لکھی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

 

پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔ ہر پاکستانی دل میں کشمیر کی دھڑکن سنتا ہے اور ہر پاکستانی زبان سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ یہ نعرہ صرف ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان کی علامت بن چکا ہے۔ یوم سیاہ کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر کوئی علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق اور عالمی انصاف کا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور عالمی طاقتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروائے۔ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے حق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے شہیدوں کے جنازے خاموش چیخ بن کر دنیا سے انصاف مانگتے ہیں۔ ان ماؤں کی سسکیاں جن کے بیٹے لاپتا ہیں، ان بہنوں کے آنسو جو اپنے بھائیوں کی لاشیں پہچاننے سے قاصر ہیں، ان بوڑھوں کی دعائیں جو ہر اذان کے ساتھ اللہ سے آزادی کی صبح مانگتے ہیں، یہ سب انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ستائیس اکتوبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ غلامی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ دن ہمیں اتحاد، یقین اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ کشمیر کے بچے آج بھی گولیوں کے سائے میں کھیلتے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں آزادی کے خواب زندہ ہیں۔ یہ خواب کبھی نہیں مریں گے کیونکہ یہ خواب حق اور سچ پر مبنی ہیں۔ دنیا کی ہر طاقت ظلم سے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوں تو کوئی طاقت انہیں غلام نہیں رکھ سکتی۔ کشمیر کی وادیوں میں بہنے والا ہر نالہ، ہر چشمہ، ہر درخت اور ہر پتھر گواہ ہے کہ یہاں کے لوگ آزادی کے لیے جی رہے ہیں اور آزادی کے لیے مر رہے ہیں۔

 

یوم سیاہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہر فورم پر انصاف کا مطالبہ جاری رکھیں۔ جب تک ظلم کی زنجیریں ٹوٹ نہیں جاتیں، جب تک کشمیر کے آسمان پر پاکستان کا پرچم نہیں لہراتا، جب تک مظلوم کی فریاد کو انصاف نہیں ملتا، تب تک یہ دن ہمیں پکار پکار کر یاد دلاتا رہے گا کہ ایک قوم اپنی آزادی کے لیے لڑ رہی ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔ کشمیر کی آزادی اب صرف وقت کی بات ہے کیونکہ حق کی شمع جب بھڑک اٹھتی ہے تو باطل کی تمام دیواریں راکھ ہو جاتی ہیں۔

 

جمیل احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا زادی کے لیے کشمیری عوام کشمیر کی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام