data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

 

نوشہرہ ورکاں/گوجرانوالہ/لاہور(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق مینار پاکستان سے شروع ہونے والی عظیم الشان ’’بدل دو نظام کو’’تحریک کا سرفہرست ایجنڈا ہوگا۔ کسان ساتھ دیں، انگریزوں کی وفاداری سے حاصل کی گئی  جاگیروں کو چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کے مطالبہ کو پوری قوم کی آواز بنا دیں گے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 35 سو روپے من گندم کی امدادی قیمت کو مسترد کرتے ہیں، فی من 45 سو روپے میں خریدی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ ورکاں، گوجرانوالہ میں ’’کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ‘‘روڈ کارواں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، نائب امیر لاہور ذکراللہ مجاہد، امیر گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا اور صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین نے بھی کارواں سے خطاب کیا۔کسان بورڈ کے زیراہتمام چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور زراعت کی بحالی کے لیے مختلف کسان تنظیموں نے پنجاب میں روڈ کارواں نکالے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے شرکا کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے پر مبارکباد دی اور کسانوں کو نومبر میں جماعت اسلامی کے 3 روزہ اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 60 فیصد آبادی زراعت سے منسلک لیکن حکمرانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے شعبہ تیزی سے زوال کا شکار ہے، زراعت کی شرح نمو ایک سال میں 6 اعشاریہ 5 فیصد سے اعشاریہ 5 تک آگئی، حکمران بتائیں یہ کس ترقی کے دعوے کررہے ہیں جب 60 فیصد عوام کی آمدنی کئی گنا کم ہوگئی۔ حکومت پنجاب نے گزشتہ برس امدادی قیمت مقرر کرکے اور کسانوں سے وعدہ کرکے گندم نہیں خریدی،چھوٹے کسان رُل گئے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسان سے 2 ہزار روپے من گندم خریدی گئی اور مارکیٹ میں 5 ہزار تک فروخت ہوئی، درمیان کی رقم مافیا کھا گیا، یہ مافیا ہر حکمران پارٹی کا حصہ ہے، سیاسی پارٹیاں خاندانوں اور افراد کے نرغے میں ہیں، بڑے جاگیردار ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، کھاد بیج کی قیمتیں آسمان پر ہیں اور گندم اور دیگر اجناس مقررہ نرخ پر فروخت نہیں ہوتیں، اس سے جاگیردار کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حکومت ان سے ٹیکس بھی نہیں لیتی، انگریز کے دور سے لے کر آج تک پاکستان میں جاگیردارانہ سماج قائم ہے، جس سے عام انسان کا استحصال ہورہا ہے، جو مراعات حکمرانوں کو حاصل ہیں کسان، مزدور کو بھی دی جائیں۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عوام جان لیں انہیں مسلط طبقات سے اپنا حق چھین کر لینا پڑے گا، جماعت اسلامی سے مل کر گلیوں کوچوں میں آواز اٹھائیں، ایوانوں کا گھیراؤ کریں، ظلم کے اس راج کو بدلنا ہوگا، ملک پر عوامی راج چاہیے، اصل حکمران اللہ کی ذات ہے، جماعت اسلامی نومبر میں اللہ کی مددو نصرت اور عوام کی تائید سے استحصالی نظام کے خلاف پرامن تحریک چلا ئے گی۔اقتدار میں آکر جماعت اسلامی عدالتی اصلاحات لائے گی۔ زراعت، تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں گے۔ عوام سمجھ لیں آزمودہ پارٹیاں ان کے مسائل کا حل نہیں، فارم 47 کی پیداور کو عوام، کسان مزدور سے کوئی غرض نہیں، چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا۔ پاکستان میں امریکی غلاموں، جاگیرداروں کا نہیں، کسان اور عوام راج ہونا چاہیے۔ زراعت اور کسان بچے گا تو ملک آگے بڑھے گا۔دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے۔ کشمیریوں کی تیسری نسل کو بھارتی مظالم کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر منصورہ سے جاری بیان میں انہوں نے  اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیا اور انہیں تحریک آزادی میں جماعت اسلامی اور پاکستان کے عوام کی جانب سے مکمل اخلاقی و سیاسی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ کشمیر پر سفارت کاری تیز کی جائے اور عالمی سطح پر یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برس سے قوم تشویش میں مبتلا ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر سودے بازی کی افواہوں کو تقویت مل رہی ہے، حکومت اس پر واضح موقف دے۔ یاد رہے کہ آج سے 78 برس قبل 27اکتوبر کو بھارتی افواج نے کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا۔ کشمیری عوام اس جارحیت کے خلاف ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر قبضہ غیر قانونی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا فرمان ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی جہدوجہد رنگ لائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سید علی گیلانی کی جدوجہد اور خوابوں کی تعبیر بنتے ہوئے بھارت کے قبضے سے آزاد ہوکر ان شاء اللہ پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔

 

گوجرانوالہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نوشہرہ ورکاں میں ’’ کسان بچائو، پاکستان بچائو‘‘ روڈ کارواں سے خطاب کررہے ہیں

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ