کسانوں‘ مزدوروں‘ نوجوانوں کے حقوق ’’بدل دو نظام کو’’تحریک کا سرفہرست ایجنڈا ہوگا‘ حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوشہرہ ورکاں/گوجرانوالہ/لاہور(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق مینار پاکستان سے شروع ہونے والی عظیم الشان ’’بدل دو نظام کو’’تحریک کا سرفہرست ایجنڈا ہوگا۔ کسان ساتھ دیں، انگریزوں کی وفاداری سے حاصل کی گئی جاگیروں کو چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کے مطالبہ کو پوری قوم کی آواز بنا دیں گے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 35 سو روپے من گندم کی امدادی قیمت کو مسترد کرتے ہیں، فی من 45 سو روپے میں خریدی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ ورکاں، گوجرانوالہ میں ’’کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ‘‘روڈ کارواں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، نائب امیر لاہور ذکراللہ مجاہد، امیر گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا اور صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین نے بھی کارواں سے خطاب کیا۔کسان بورڈ کے زیراہتمام چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور زراعت کی بحالی کے لیے مختلف کسان تنظیموں نے پنجاب میں روڈ کارواں نکالے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے شرکا کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے پر مبارکباد دی اور کسانوں کو نومبر میں جماعت اسلامی کے 3 روزہ اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 60 فیصد آبادی زراعت سے منسلک لیکن حکمرانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے شعبہ تیزی سے زوال کا شکار ہے، زراعت کی شرح نمو ایک سال میں 6 اعشاریہ 5 فیصد سے اعشاریہ 5 تک آگئی، حکمران بتائیں یہ کس ترقی کے دعوے کررہے ہیں جب 60 فیصد عوام کی آمدنی کئی گنا کم ہوگئی۔ حکومت پنجاب نے گزشتہ برس امدادی قیمت مقرر کرکے اور کسانوں سے وعدہ کرکے گندم نہیں خریدی،چھوٹے کسان رُل گئے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسان سے 2 ہزار روپے من گندم خریدی گئی اور مارکیٹ میں 5 ہزار تک فروخت ہوئی، درمیان کی رقم مافیا کھا گیا، یہ مافیا ہر حکمران پارٹی کا حصہ ہے، سیاسی پارٹیاں خاندانوں اور افراد کے نرغے میں ہیں، بڑے جاگیردار ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، کھاد بیج کی قیمتیں آسمان پر ہیں اور گندم اور دیگر اجناس مقررہ نرخ پر فروخت نہیں ہوتیں، اس سے جاگیردار کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حکومت ان سے ٹیکس بھی نہیں لیتی، انگریز کے دور سے لے کر آج تک پاکستان میں جاگیردارانہ سماج قائم ہے، جس سے عام انسان کا استحصال ہورہا ہے، جو مراعات حکمرانوں کو حاصل ہیں کسان، مزدور کو بھی دی جائیں۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عوام جان لیں انہیں مسلط طبقات سے اپنا حق چھین کر لینا پڑے گا، جماعت اسلامی سے مل کر گلیوں کوچوں میں آواز اٹھائیں، ایوانوں کا گھیراؤ کریں، ظلم کے اس راج کو بدلنا ہوگا، ملک پر عوامی راج چاہیے، اصل حکمران اللہ کی ذات ہے، جماعت اسلامی نومبر میں اللہ کی مددو نصرت اور عوام کی تائید سے استحصالی نظام کے خلاف پرامن تحریک چلا ئے گی۔اقتدار میں آکر جماعت اسلامی عدالتی اصلاحات لائے گی۔ زراعت، تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں گے۔ عوام سمجھ لیں آزمودہ پارٹیاں ان کے مسائل کا حل نہیں، فارم 47 کی پیداور کو عوام، کسان مزدور سے کوئی غرض نہیں، چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا۔ پاکستان میں امریکی غلاموں، جاگیرداروں کا نہیں، کسان اور عوام راج ہونا چاہیے۔ زراعت اور کسان بچے گا تو ملک آگے بڑھے گا۔دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے۔ کشمیریوں کی تیسری نسل کو بھارتی مظالم کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر منصورہ سے جاری بیان میں انہوں نے اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیا اور انہیں تحریک آزادی میں جماعت اسلامی اور پاکستان کے عوام کی جانب سے مکمل اخلاقی و سیاسی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ کشمیر پر سفارت کاری تیز کی جائے اور عالمی سطح پر یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برس سے قوم تشویش میں مبتلا ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر سودے بازی کی افواہوں کو تقویت مل رہی ہے، حکومت اس پر واضح موقف دے۔ یاد رہے کہ آج سے 78 برس قبل 27اکتوبر کو بھارتی افواج نے کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا۔ کشمیری عوام اس جارحیت کے خلاف ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر قبضہ غیر قانونی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا فرمان ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی جہدوجہد رنگ لائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سید علی گیلانی کی جدوجہد اور خوابوں کی تعبیر بنتے ہوئے بھارت کے قبضے سے آزاد ہوکر ان شاء اللہ پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔
گوجرانوالہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نوشہرہ ورکاں میں ’’ کسان بچائو، پاکستان بچائو‘‘ روڈ کارواں سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کی
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب