104 فلسطینی شہید کر کے اسرائیل کا معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان: حملے قابل مذمت، عالمی برادری خلاف ورزیاں رکوائے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
غزہ؍ اسلام آباد؍ دوحہ؍ بیروت؍ ریاض (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) اسرائیل کی حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے بمباری میں ایک دن میں 46 بچوں سمیت 104 فلسطینی شہید ہوگئے تاہم اب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرے گا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کریں گے تاہم خلاف ورزی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ غزہ کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا شہید ہونے والوں میں 46 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ پر تازہ حملوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حماس کے کمانڈر سمیت کئی ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے، اسلحہ ڈپو اور حماس کی سرنگوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے رفح میں اسرائیلی فورسز پر حملے کی تردید کی اور کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ علاہ ازیں پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جس میں مزید فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا اسرائیل کی یہ کارروائیاں طے پانے والے امن معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ ادھر قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں پر غزہ میں حملہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔ منگل کے روز غزہ میں پیش آنے والے واقعات ہمارے لئے انتہائی مایوس کن اور پریشان کن تھے۔ حماس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈالنے کی ضرورت تسلیم کرے۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ اب ان کے ملک پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بند کروایا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ گزشتہ روز امریکی ایلچی موگن ٹاگس سے ملاقات کے دوران کیا۔ لبنانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی معاہدے کو مانیٹر کرنے والی کمیٹی کو اسرائیل کی جانب سے جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں روکنے کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنوبی لبنان کے بے گھر ہو نے والے شہریوں کو اپنے گھروں میں واپسی کا حق ملنا چاہیے۔ وہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکے۔ مکانوں کی تعمیر و مرمت بھی ممکن بنائیں۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ریاض میں فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفی نے ملاقات کی ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کانفرنس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ، آزاد ریاست کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ملاقات میں دو ریاستی سربراہی کانفرنس کے نتائج، مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کیلئے نیویارک اعلامیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن تجویز، شرم الشیخ اعلامیہ اور ریاض میں دو ریاستی حل کے نفاذ کیلئے بین الاقوامی اتحاد کے حالیہ اعلی سطحی اجلاس کا جائزہ لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔