سندھ بارکونسل کا 27ویں ترمیم کی سخت مخالفت کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-01-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بار کونسل کے نو منتخب ارکان نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کو غیر آئینی اور جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ سندھ بار کونسل کے نومنتخب 18 ارکان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاقی کابینہ اور سینیٹ سے منظوری کے بعد جب حکومت نے مجوزہ بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے لیکن اس نازک آئینی مرحلے پر سندھ بار کونسل کا موجودہ ادارہ خاموش ہے، جس کے باعث نو منتخب ارکان نے بیان جاری کرنا ضروری سمجھا۔ بیان میں کہا گیا کہ مجوزہ ترمیم، 26ویں آئینی ترمیم کے تسلسل میں ایک اور غیر آئینی مہم جوئی ہے، جو اب واضح طور پر آئینی آمریت کی سمت بڑھ رہی ہے۔ ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ بل کے ذریعے ایک مستقل نوعیت کے عہدے کے قیام کی کوشش کی جا رہی ہے جو نہ صرف آئین بلکہ جمہوری اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح عدالت عظمیٰ کے اختیارات کم کر کے ایک متوازی ادارہ، یعنی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز آئین کے بنیادی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے برعکس ہے۔ نو منتخب ارکان نے مزید کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں ہے۔ پارلیمنٹ آئین کی بنیادی خصوصیات جیسے اسلامی دفعات، وفاقی حیثیت، پارلیمانی طرزِ حکومت اور عدلیہ کی آزادی کو ختم یا تبدیل نہیں کر سکتی۔ ارکان کے مطابق آئینِ پاکستان کی روح عدلیہ کی آزادی پر کسی بھی قسم کی دست درازی کی اجازت نہیں دیتا۔ سندھ بار کونسل کے ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ بار کونسل کے نو منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ بار کونسل کے عدلیہ کی ا زادی ارکان نے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔