ٹک ٹاکر علینہ عامر کا بابر اعظم کو شادی سے متعلق مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر علینہ عامر نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کو شادی سے متعلق مشورہ دیا ہے۔
علینہ عامر سے ایک موقع پر نجی ٹی وی کے رپورٹر نے بابر اعظم کی شادی سے متعلق سوال کیا۔ رپورٹر نے پوچھا کہ ’بابر اعظم کی شادی کی خبریں چل رہی ہیں کیا انہیں کرلینی چاہیے یا پھر اپنے کیریئر پر فوکس رکھنا چاہیے‘۔
علینہ عامر نے کہا کہ شادی کا کوئی وقت مقرر نہیں جب اچھا انسان مل جائے تو شادی کرلینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کیلیے ٹھیک وقت کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بابر اعظم کو کوئی اچھا انسان مل گیا ہے انہیں شادی کرلینی چاہیے اور ہر کسی کو اس طرح کرنا چاہیے کیونکہ شادی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
علینہ عامر نے قومی ٹیم کے پسندیدہ کھلاڑی کے سوال پر صائم ایوب کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اسکور کررہے ہیں مگر کبھی صفر پر آؤٹ ہوتے تو کبھی 100 رنز بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اور بھی کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں اور یہ سب کچھ کارکردگی پر منحصر ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علینہ عامر نے کہا کہ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں