27ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کوئی نہیں ہے،قومی اسمبلی کے ایوان میں دو تین اچھی تجاویز دی ہیں اس پر بات ہو رہی ہے،اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کوئی نہیں ہے،قومی اسمبلی کے ایوان میں دو تین اچھی تجاویز دی ہیں اس پر بات ہو رہی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ آج قومی اسمبلی میں 27ویں ترمیم پرووٹنگ ہو جائے گی،اگر قومی اسمبلی میں کسی قسم کی ترمیم منظور ہوئی تو اس کی سینیٹ سے منظوری لی جائیگی،ان کاکہناتھا کہ کوئی ایسی بڑی چیز نہیں جو نئے سرے سے آرہی ہے،آئین میں جب ترمیم ہوتی ہے تو دس بار احتیاط سے دیکھاجاتا ہے،حتمی ترامیم کے اثرات میں ایک دو جگہوں پر مزید وضاحت کیلئے ترمیم کی جا سکتی ہے۔
سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
اعظم نذیر تارڑ کاکہناتھا کہ آرٹیکل 239میں آئین میں ترمیم کااختیار صرف پارلیمان کا ہے،آئینی عدالت بھی آئین کو ری رائٹ نہیں کر سکتی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ قومی اسمبلی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔