”ایک افغانی گرفتار کرائیں 10ہزار نقد انعام پائیں“ پنجاب میں بڑا آپریشن شروع
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
آئی جی پنجاب نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ اطلاع دینے والے شہری کو فوری طور پر انعام کی رقم فراہم کی جائے۔ حکام نے کہا کہ یہ مہم ان مکان مالکان اور دکانداروں کیخلاف بھی ہے جو غیر قانونی افغان باشندوں کو کرایہ پر جگہ دے رہے ہیں۔ کارروائی صرف غیر قانونی مقیم افراد تک محدود نہیں بلکہ سیاحتی یا طبی ویزے پر پاکستان میں کاروبار کرنیوالے افغان شہریوں کیخلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ شہریوں کیلئے انعامی سکیم کا اعلان کر دیا گیا۔ جس کے تحت شہریوں کو فی کیس 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کیخلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کارروائی ان افغان باشندوں کیخلاف کی جا رہی ہے جو بغیر قانونی دستاویزات کے رہائش پذیر یا کاروبار کر رہے ہیں اور جعلی شناختی کارڈز استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پنجاب پولیس نے شہریوں کیلئے انعامی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شخص کسی غیر قانونی افغان شہری کی اطلاع دے گا، اسے 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
اس حوالے سے آئی جی پنجاب نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ اطلاع دینے والے شہری کو فوری طور پر انعام کی رقم فراہم کی جائے۔ حکام نے کہا کہ یہ مہم ان مکان مالکان اور دکانداروں کیخلاف بھی ہے جو غیر قانونی افغان باشندوں کو کرایہ پر جگہ دے رہے ہیں۔ کارروائی صرف غیر قانونی مقیم افراد تک محدود نہیں بلکہ سیاحتی یا طبی ویزے پر پاکستان میں کاروبار کرنیوالے افغان شہریوں کیخلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے افراد کی اطلاع دینے والے شہریوں کو بھی فی کیس 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ پنجاب پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں فعال کردار ادا کریں۔ اعداد و شمار کے مطابق نومبر کے آغاز میں پاکستان میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں 150 فیصد اضافہ ہوا، حالیہ دنوں میں 7 ہزار 764 افغان باشندے گرفتار کیے گئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق چاغی، اٹک اور کوئٹہ سے ہے۔
اسی دوران افغانستان واپس جانے والے اور ملک بدر کیے گئے افراد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی، جو 37 ہزار 448 تک پہنچ گئی، ان میں سے 47 فیصد پاس آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈر، 44 فیصد بغیر دستاویزات اور 93 فیصد ڈی پورٹی افراد غیر قانونی تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان شہریوں کی اطلاع دینے کیخلاف بھی کی جائے رہے ہیں
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے