صیہونی صحافی کی دھمکی کیبعد، جولانی حکومت الاقصیٰ کانفرنس کے انعقاد سے دستبردار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں ایدی كوھن كا کہنا تھا کہ تمہارے پاس اس کانفرنس کو ملتوی کرنے کیلئے صرف آج کے دن کی مہلت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خبررساں اداروں نے رپورٹ دی کہ "شام" کے شہر حلب میں طوفان الاقصی کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔ یہ کانفرنس، اس وقت ملتوی کی گئی جب ایک صیہونی صحافی "ایدی کوھن" نے شام پر قابض باغی سربراہ "ابو محمد الجولانی" کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ اس حوالے سے ایدی کوھن نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر جولانی رژیم کو انتباہ جاری کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ تمہارے پاس اس کانفرنس کو ملتوی کرنے کے لئے صرف آج کے دن کی مہلت ہے۔ اس کے علاوہ اس اقدام پر شامی وزیر ثقافت "محمد یاسین صالح" ہم سے معافی مانگے۔ انہوں نے جولانی رژیم سے محمد یاسین صالح کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان دھمكیوں كے بعد، ہال میں كسی اور تقریب كے بہانے مذكورہ كانفرنس كو ملتوی كر دیا گیا۔ یاد رہے كہ قبل ازیں حلب کے كلچرل ڈائریکٹوریٹ نے اس تقریب کا وقت آج جمعہ شام 5 بجے طے کیا تھا اور عوام سے اس میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ یہ پروگرام فلسطینی آرٹ گروپس اور حلب کی جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے ثقافت کے باہمی تعاون سے منعقد ہونا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔