چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم‘ جنرل ساحر شمشادمرزا ذمے داریوں سے سبکدوش
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوگیا جبکہ جنرل ساحر شمشاد اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوگئے۔ صدر مملکت آصف زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پاک فوج میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ ختم کردیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا مسلح افواج کے18ویں اور آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ہوں گے جو 27 نومبر 2025ء کو اپنی ملازمت کی مقررہ مدت پوری کریں گے۔ آئین میں 27ویں ترمیم کے نتیجے میں، ان کے بعد کوئی CJCSC نامزد نہیں کیا جائے گا۔ پہلے CJCSC جنرل محمد شریف تھے جنہیں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1 مارچ 1976ء کو مقرر کیا تھا۔ ایڈمرل محمد شریف اور ایڈمرل افتخار احمد سروہی نیوی سے تھے جبکہ پاکستان ایئر فورس (PAF) سے صرف ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان نے بطور CJCSC خدمات انجام دیں۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے صدر مملکت سے ایوان صدر میں الوداعی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر زرداری نے قومی دفاع کے لیے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی خدمات کو سراہا، صدر مملکت کی جانب سے جنرل ساحر شمشاد مرزا کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے بھی سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیرِ اعظم نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملک و قوم کے لیے خدمات کی تعریف کی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیئرمین جوائنٹ چیفس ا ف اسٹاف کمیٹی صدر مملکت
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔