پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور اگر ممالک کے درمیان سفارتی روابط کم ہو جائیں تو اس کا نتیجہ لازماً کشیدگی اور غلط فہمیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں رابطے جتنے مضبوط ہوں گے، تنازعات کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے گھبرانے کے بجائے اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اے آئی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ چلنے کا واحد راستہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے۔
حنا ربانی کھر نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے نیوکلیئر رسک پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نیوکلیئر سیفٹی کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچا جا سکے۔
چین کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین نے جدید ٹیکنالوجی کے لیے جامع اور منظم منصوبہ بندی کی، جس کی وجہ سے صرف دو سال میں برقی گاڑیوں (ای وی) کی مارکیٹ میں صفر سے دنیا میں سبقت لینے تک کا سفر طے کیا۔ ان کے مطابق یہ مثال واضح کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اقوام کو غیر معمولی رفتار سے آگے لے جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان