پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور اگر ممالک کے درمیان سفارتی روابط کم ہو جائیں تو اس کا نتیجہ لازماً کشیدگی اور غلط فہمیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں رابطے جتنے مضبوط ہوں گے، تنازعات کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے گھبرانے کے بجائے اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اے آئی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ چلنے کا واحد راستہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے۔
حنا ربانی کھر نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے نیوکلیئر رسک پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نیوکلیئر سیفٹی کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچا جا سکے۔
چین کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین نے جدید ٹیکنالوجی کے لیے جامع اور منظم منصوبہ بندی کی، جس کی وجہ سے صرف دو سال میں برقی گاڑیوں (ای وی) کی مارکیٹ میں صفر سے دنیا میں سبقت لینے تک کا سفر طے کیا۔ ان کے مطابق یہ مثال واضح کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اقوام کو غیر معمولی رفتار سے آگے لے جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پی بی سی کے چیئرمین سمیع شاہ کے مبینہ بھارتی روابط پر سوالات، ایڈیٹوریل آزادگی پر خدشات

بی بی سی میں سمیع شاہ کے 2024 میں چیئرمین بننے کے بعد کچھ داخلی حلقوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مبینہ بھارتی روابط اور ایڈیٹوریل فیصلوں پر اثراندازی کے شبہات نے ادارے کے اندر تجزیہ اور تنقید کی لہر پیدا کر دی ہے۔

پینوراما پروگرام پر تنازع

بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے جاری ویڈیو کلپ نے داخلی تنازعات کو بڑھا دیا۔ بعض عملے کے ارکان نے ایڈیٹنگ پر سوال اٹھائے کہ آیا کلپ میں مناسب تناظر پیش کیا گیا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے مبینہ ’بھارتی رابطوں‘ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے

بی بی سی نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے، مگر بعض کارکنان کا خیال ہے کہ اس میں بھارت سے متعلق جیوپولیٹیکل تاثرات شامل ہو سکتے ہیں۔

خارجی اثراندازی کے الزامات

کچھ بی بی سی ملازمین نے مبینہ بھارتی اثراندازی کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمیع شاہ کے غیر رسمی تعلقات برطانوی خفیہ اداروں یا دیگر غیر ملکی نیٹ ورکس جیسے بھارتی RAW یا اسرائیلی موساد سے ہو سکتے ہیں۔ یہ الزامات ابھی تک تصدیق شدہ نہیں اور کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں۔

داخلی اختلاف اور عملے کی تشویش

بی بی سی کے تقریباً 100 کارکنوں نے ایک خط پر دستخط کیے جس میں ایڈیٹوریل بایس اور سمیع شاہ کی قیادت پر تحفظات ظاہر کیے گئے۔ پینوراما تنازع کو اس خدشے کی انتہا قرار دیا گیا۔ چند ملازمین نے مستعفی ہونے کی وجوہات میں ایڈیٹوریل مداخلت اور اعتماد کے خاتمے کا ذکر کیا۔

پارلیمنٹ میں پیشی متوقع

ہاؤس آف کامنز میں سمیع شاہ اور منتخب بورڈ ممبران سے سوالات کیے جائیں گے تاکہ ایڈیٹوریل فیصلوں، عملے کی شکایات اور خارجی دباؤ کے بارے میں جانچ کی جا سکے۔ یہ سماعت ممکنہ طور پر مزید تفصیلات سامنے لائے گی۔

اگرچہ ابھی تک کوئی سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا، بی بی سی میں سمیع شاہ کی قیادت پر شک و شبہات اور ایڈیٹوریل تنازعات کی بنیاد پر مباحثہ جاری ہے۔ آئندہ ہفتوں میں پارلیمانی سماعت سے صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے، جبکہ مبینہ بھارتی روابط پر سوالات برقرار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سفارتی روابط میں کمی سے ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے، سابق وزیرخارجہ
  • فنڈز مہیا کیے جائیں تو کے فور منصوبہ 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے، واپڈا
  • پاکستان معدنی وسائل، مقامی مواد اور نوجوانوں کے جوہر میں دنیا سے کم نہیں: ڈاکٹر طاہر عرفان
  • پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر ایک بلند مقام پر کھڑا ہے، مسعود خان
  • دنیا کے کم عمر ترین وائس چانسلر کا اعزاز پاکستان کے پاس
  • یاسین ملک کو کچھ ہوا تو نیوکلیئر نہیں ہائڈروجن بم بھی چلے گا، مشال ملک
  • پی بی سی کے چیئرمین سمیع شاہ کے مبینہ بھارتی روابط پر سوالات، ایڈیٹوریل آزادگی پر خدشات
  • دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مستقبل کی جنگیں مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی جیتی جائیں گی: جنرل ساحر شمشاد مرزا کا الوداعی خطاب
  • ٹرمپ بن سلمان ملاقات تناو اور کشیدگی کا شکار رہی، رپورٹ