اسلام آباد (خبر نگار+ خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) اپوزیشن رہنما اسد قیصر نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ احتجاج کا پارلیمانی روایات ہیں جب میں سپیکر تھا تو نوید قمر ڈائس کے قریب آئے تھے۔ ہم نے بہت برداشت کیا ہے آپ کا معترف ہوں، محمود اچکزئی نے ہمیشہ آئین و قانون کی بات کی ہے۔ محمود اچکزئی کے جمہوریت اور آئین کیلئے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بیرسٹر عقیل نے کہا خیبر پی کے میں گورنر راج کا سوچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کسی کیپسٹی (حیثیت) میں یہ بات کی؟ خیبر پی کے کو این ایف سی کا شیئر نہیں دیا جا رہا، ہم نے قومی جرگہ کیا ساری جماعتیں شریک ہوئیں، اس قومی جرگے میں متفقہ قرارداد پاس ہوئی، بتائیں ایک شق پر بھی عمل کیا جا رہا ہے؟ بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے کہا ضمانت دیتے ہیں پارلیمنٹ پر حملہ آور نہیں ہونگے۔ بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پی کے میں مجھے گورنر راج لگتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ خیبر پی کے گورنر راج کا متحمل نہیں ہو سکتا، کوشش کریں گے خیبر پی کے میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو، وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت دیا جانا چاہئے۔ گورنر راج نہیں لگے گا، گورنر راج  نہیں لگے گا، صوبہ آئین اور قانون کے مطابق چلے گا۔ بانی پی ٹی آئی سے ملااقات کو ایک ماہ گزر گیا،ملاقات بہت ضروری ہے، ایوان میں سپیکر نے کہا گوہر صاحب میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ محمود اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی کا حکومت چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا ، اگر وہ ایوانوں میں ہوتے تو شائد یہ حالات نہ ہوتے۔ وہ  قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمان کی عزت، تکریم اور حرمت سب کو عزیز ہے، کہا گیا کہ ہمیں دیوار کے ساتھ مت لگائیں ۔ پی ٹی آئی نے سپیس خود چھوڑی، عوام کا خیر خواہ بننے کی بجائے اقتدار کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ جوغلطیاں جس طرف سے ہوئیں تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ انہوں نے وزیراعظم کی بات دوہرائی کہ  پاکستان رہے گا تو ہم سب رہیں گے اور بانی پی ٹی آئی بھی سیاست کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے تک لے جایا گیا، بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا، اجتجاج ہوا لیکن کسی دائرے میں رہتے ہوئے ہوا۔ محمد نواز شریف کو دو مرتبہ نااہل کیا گیا لیکن ہم نے حملے نہیں کیے۔ گورنر راج کوئی مارشل لاء کی شکل نہیں بلکہ آئین  میں دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 232-234 تک حالات ہوتے ہیں تو گورنر راج آئینی   عمل ہو گا، غیر آئینی عمل یہ ہے کہ پولیس کے گاڑیاں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاق پر حملہ کرنا غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلیں ہم نے بھی کاٹی ہیں، ہماری قیادت کی بے توقیری کی گئی۔ ہسپتالوں سے گرفتاریاں ہوئیں لیکن اس طرح نہیں کیا گیا جو اب ہو رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ گزشتہ روز ایک رکنِ اسمبلی کی جانب سے دئیے گئے کچھ غیر ذمہ دارانہ بیانات کا تذکرہ ایوان کے سامنے رکھا جائے، سپیکر نے کہا کہ سب سے پہلے، مذکورہ رکن نے ایوان کے اندر آکر اپوزیشن لابی میں یہ اعلان کیا کہ وہ ایوان کی کارروائی میں مداخلت کرنے کے لیے چیئر تک جائیں گے۔ سپیکر نے نشاندہی کی کہ کل پھر اسی رکن نے ایک اور غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان دیا کہ وہ عوام کو استعمال کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینٹ کی کارروائی روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء میں بھی ہم نے ایسے حالات کا سامنا کیا تھا اور اس وقت بھی پارلیمنٹ نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ  کے لیے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ آج بھی ہم پوری طرح تیار ہیں کہ ایسی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، بطور کسٹوڈین آف دی ہائوس پارلیمنٹ کا تحفظ کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور ایوان و ریاست کے خلاف بیانات نہ صرف انتہائی نامناسب ہیں بلکہ جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا ایسی سوچ اور بیانات کو ہمیں سب نے مل کر روکنا ہے تاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی، آئینی نظام اور جمہوری روایات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کی تقریر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تمام  ارکانِ پارلیمنٹ بخوبی جانتے ہیں کہ میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ میں جتنی کوشش کرتا ہوں، وہ سب کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم، وزیرِ قانون اور میں متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوں گے۔ محاذ آرائی سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوام کا گھر ہے اور اس کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔ سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ میں نے اس روز آپ کے قائد کو مذاکرات کی پیشکش کی، مگر انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان سے بات کریں، آپ سے بات نہیں کرنی۔ اس کے باوجود میں نے آپ کو مائیک دیا، آپ نے خود کہا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپ کو اپنے چیمبر مدعو کیا، کیا میرا کردار منفی تھا میں نے تو حکومت کو بھی آپ کے سامنے بٹھایا تاکہ بات چیت کا تسلسل قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سیاسی مکالمے کا گھر ہے جہاں ہر اختلاف قانون و آئین کے اندر رہتے ہوئے حل ہوتا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن اراکین کی جانب سے اظہار خیال پر ردعمل میں ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 ء میں جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا تو مجھے ایک چٹ موصول ہوئی تھی جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر ارکان ایوان سے باہر نہ گئے تو کزن برادر حملہ آور اندر آ کر خدانخواستہ جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میں اس وقت بھی اسی کرسی پر بیٹھا تھا اور ہم سب نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایوان سے نہیں جائیں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی ہوئے کہا کہ خیبر پی کے پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے گورنر راج ہیں کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن