جیل میں ملاقات کی غیر قانونی ڈیمانڈپوری نہیں ہوگی : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کے لئے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد سیاسی عمل بحال ہوا۔ ہم نے پی ٹی آئی دور کی تلخیاں برداشت کی ہیں۔ جیل میں ملاقات ملکی اداروں کے خلاف سازشوں کے لئے نہیں قانونی امور کے لئے ہوتی ہے۔ جیل میں ملاقات کا مینوئل موجود ہے۔ غیر قانونی ڈیمانڈ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کی تحقیق اچھی ہوتی ہے، ان کی تقاریر سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے کہ پارلیمانی عمل کو کیسے آگے بڑھانا ہے۔ ابھی بھی انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اپنے سینے پر لگا رکھا ہے، ان کی بہت قدر ہے، مگر یہ سلیکٹو میموری کیوں ہے؟۔ علی محمد خان نے جیل میں ملاقات کا ذکر کیا مگر یہ کیوں نہیں بتایا کہ ان کے لیڈر بیرون ملک کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ’’میں ان کا اے سی اتار دوں گا، میں نے شاہد خاقان عباسی کو جیل میں ڈالا۔‘‘ عطاء اللہ تارڑ نے علی محمد خان کے پڑھے گئے شعر کے جواب میں شعر پڑھا ’’یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا، یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی روایت بھی ان کے دور میں ڈالی گئی۔ کس نے کہا تھا کہ فلاں کی بہن، بیٹی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دو؟۔ کس نے صبح شام گرفتاریوں کی فہرستیں طلب کیں؟۔ یہ وہ لوگ تھے جو بار بار جیل انتظامیہ سے پوچھتے تھے کہ کہیں کھانا تو نہیں مل گیا، کوئی دوائی تو فراہم نہیں ہو گئی۔ آج بدنام زمانہ شہزاد اکبر یہاں موجود نہیں ہے۔ ہم اس وقت بھی کہتے تھے کہ ایسے افراد نے سیاسی ماحول میں شدید تلخیاں پیدا کی ہیں اور یہی لوگ سب سے پہلے ملک سے فرار ہوں گے جبکہ سختیاں دوسروں کو برداشت کرنا پڑیں گی اور آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ جب یہ لوگ تلخیوں کو ہوا دے رہے تھے اور پارلیمنٹ کے ادارے پر حملہ آور ہوئے تو اس دوران اپوزیشن کی پوری صف جیلوں میں بند تھی جبکہ وزیراعظم ہائوس کے اندر روزانہ اجلاس ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ملاقات کا مقصد قانونی مشاورت ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ افواج پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کو تھپکی دی جائے، نہ ہی اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملکی اداروں کو بھارت کے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بدنام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ملاقات اس لئے نہیں ہوتی کہ شہداء کی تضحیک کی جائے یا سوشل میڈیا پر فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جیل میں ملاقات انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔