data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا ایک نہایت اہم اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں اعلیٰ عدلیہ میں مستقل ججوں کی تقرری سے متعلق اہم معاملات پر غور کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سمیت صوبائی ہائیکورٹس میں مختلف عہدوں پر مستقل ذمہ داریاں دینے کا مرحلہ زیر بحث تھا۔ آج ہونے والے اس اجلاس سے توقع کی جا رہی ہے کہ کئی اہم مناصب پر پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے عدالتی ڈھانچے میں جاری خلا بھی پر ہو سکے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی سب سے نمایاں ایجنڈا ہوگا۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ موجودہ عدالتی ضروریات اور مقدمات کے بڑھتے بوجھ کے پیش نظر کس نام کو سپریم کورٹ کا مستقل حصہ بنایا جانا چاہیے۔  اس حوالے سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر غور ہے۔

اجلاس صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ صوبائی عدلیہ سے متعلق معاملات بھی آج کی نشست کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی کا مرحلہ اس اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر دونوں ہائیکورٹس میں پہلے تین سینئر ججز کے نام پر غور کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن