آج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے،بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-1-1
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تعلقات میں بہتری کی امید رکھی تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا آئی ایس پی آر پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے، ہمیشہ امید کی کہ تناؤ کم ہو اور تعلقات میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع اہم ہے، پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہیں رہا اور نہ ہی ہوگا، اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان بھی ہمارا، فوج بھی ہماری ہے، اس وقت سب کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنے اور جگہ دینے کی ضرورت ہے اور ہمیں ملکر اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپیل کی کہ جمہوریت پسند قوتیں اس تناؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کریں اور نان اسٹیک ہولڈرز کا کردار پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان تناؤ کا سبب نہ بنے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے اگر یہ ہوجاتا ہے تو صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک مزید تناؤ اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی کہا کہ
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔