پاکستان میں شفافیت میں اضافہ، کرپشن کم، معیشت ترقی کر رہی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی ہوئی، ملکی معیشت زبوں حالی سے استحکام اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے این سی پی ایس 2025ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا انہیں کسی سرکاری کام کیلئے رشوت نہیں دینی پڑی، حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے معیشت کو مستحکم کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا بھی معاشی استحکام کا سبب بنا، پولیس کے حوالے سے عوامی رائے میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، یہ بہتری پولیس کے رویے اور سروس ڈلیوری کی عکاس ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2سیب اور ہینڈ واش چوری، مقدمہ درج
رپورٹ کے مطابق تعلیم، زمین و جائیداد اور ٹیکسیشن سے متعلق عوامی تاثر میں بھی بہتری آئی ہے، این سی پی ایس پاکستان میں بد عنوانی کا تاثر جانچنے کا پیمانہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔