پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارت، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان اور انڈونیشیا نے تجارت، ثقافت، صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ آج اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشین صدر پرابوو سبیانتو کے درمیان ملاقات کے دوران کیا گیا، جس کے بعد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔
بعد ازاں مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے انڈونیشین صدر کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت کے حوالے سے کہا کہ دونوں طرفین نے پاکستان کی زرعی مصنوعات اور آئی ٹی سروسز کے ذریعے تجارتی توازن قائم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور انڈونیشیا کی تجارت کے 4.
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے ڈاکٹروں، ڈینٹسٹس، طبی ماہرین اور دیگر متعلقہ ماہرین کو انڈونیشیا بھیجے گا تاکہ وہاں کی طبی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
وزیراعظم نے نوٹ کیا کہ ہمارے تعلقات 75 سال سے زیادہ پر محیط ہیں اور انڈونیشین صدر کے دورے کا وقت دو طرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس موقع کو شایان شان منانے کی پاکستان کی مضبوط خواہش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 1965 کی جنگ میں انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ مضبوط حمایت کا مظاہرہ کیا، اور کہا کہ یہ پاکستان کے عوام کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ یقین ہے کہ انڈونیشین صدر کے دورے سے بھائی چارے کے تعلقات کو ایک بلند سطح تک پہنچایا جائے گا، انہوں نے زور دیا کہ وہ نہ صرف اپنے ممالک بلکہ پورے خطے کی ترقی اور امن کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
اس موقع پر انڈونیشین صدر پرابوو سبیانتو نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا نے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو عملی طور پر متوازن کرنے کی رفتار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم، زراعت، صحت اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صحت کے شعبے میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈاکٹروں، ڈینٹسٹس، طبی ماہرین اور دیگر متعلقہ ماہرین بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی۔
انڈونیشین صدر نے کہا کہ دونوں ممالک خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی تعاون کر رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔
انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا اس معاملے میں ہمیشہ مشترکہ موقف برقرار رکھیں گے۔
انڈونیشین صدر نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے گرمجوش استقبال اور مہمان نوازی پر شکرگزاری کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز ہے کہ پاکستان ایئرفورس کے لڑاکا طیاروں بشمول جے ایف 17 تھنڈر نے ان کے جہاز کو اسکورٹ کیا۔
انڈونیشین صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی مدعو کیا کہ وہ باہمی سہولت کے مطابق انڈونیشیا کا دورہ کریں۔
دفتر خارجہ کے مطابق، یہ صدر سبیانتو کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جبکہ آخری صدارتی دورہ سابق صدر جوکو ویدودو نے 2018 میں کیا تھا۔
دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان اور انڈونیشیا کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔
صدر پرابوو سبیانتو اپنے قیام کے دوران صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی انڈونیشین صدر سے ملاقات کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور انڈونیشیا انڈونیشین صدر شہباز شریف کہ پاکستان تعلقات کو نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ