وفاقی حکومت کے پہلے 20 ماہ میں قرضوں میں 12 ہزار ارب روپے سے زائد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی جانب سے ابتدائی 20 مہینوں میں لیے گئے قرضوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق اس دوران مجموعی قرضوں میں 12 ہزار 169 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارچ 2024 سے اکتوبر 2025 کے عرصے پر محیط ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ مدت میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 11 ہزار 300 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں 869 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر 76 ہزار 979 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2024 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے۔ اسی طرح مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ فروری 2024 میں 42 ہزار 675 ارب روپے تھا جو اکتوبر 2025 تک بڑھ کر 53 ہزار 975 ارب روپے ہو گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کا بیرونی قرضہ بھی اس عرصے میں بڑھتا رہا، جو فروری 2024 میں 22 ہزار 134 ارب روپے تھا اور اکتوبر 2025 تک 23 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت اکتوبر 2025 کے مطابق ارب روپے
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔