data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو بہتر اور مؤثر خدمات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مربوط نظم و نسق، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد کے بغیر سرکاری خدمات مؤثر نہیں ہو سکتیں، اسی لیے تمام محکموں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔اٹھارویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں فوری سہولیات کی فراہمی کیلئے عارضی بنیادوں پر 4 ہزار ڈاکٹرز اور عملہ بھرتی کیا گیا جبکہ صوبے بھر میں 918 بنیادی مراکز صحت فعال کیے گئے ہیں۔ ہیلتھ کارڈ کے تحت اب تک تین لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں 14 ہزار اساتذہ کی بھرتی سے صوبے میں 14 ہزار 556 سرکاری اسکول فعال ہو گئے ہیں، جبکہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے 650 سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے، جس سے 95 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیم تک رسائی ملی۔چیف سیکرٹری کے مطابق صوبے میں دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت معیشت، سماجی و ماحولیاتی ترقی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے 27 ہزار بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے، جس سے توانائی اور سرکاری وسائل کی بچت ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کیلئے روزگار کی فراہمی کے تحت انٹرپرائز ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے چھ اضلاع میں 60 ہزار نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اخوت کے تعاون سے 10 ہزار نوجوانوں کو قرضے دیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ پانچ سال میں 3 ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کیلئے بھیجا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان سپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (ڈی سی سی) کے تحت 35 اضلاع میں 900 سے زائد ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن میں سے 100 سے زائد مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم میں 8 ہزار سے زائد رضاکار شریک ہیں اور گزشتہ 13 ماہ سے صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 50 کروڑ روپے کا کلائمیٹ چینج فنڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ 2025 کے نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل مقابلے میں لورالائی کے برانڈ “لورالائی اولیوز” نے سلور میڈل حاصل کر کے صوبے کا نام روشن کیا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیف سیکرٹری انہوں نے کے تحت

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ