data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت گوگل نے اپنے صارفین کو ایک ایسی سہولت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔

دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے کم عمری یا ناپختہ ذہن کے ساتھ ایسے جی میل ایڈریس بنا لیے تھے جو بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں باعثِ شرمندگی بن گئے۔ اب گوگل کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا نیا فیچر ایسے صارفین کے لیے بڑی راحت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے جی میل اکاؤنٹ ہولڈر اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے جب کہ ان کا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر معلومات محفوظ رہیں گی۔

گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ اپنے جی میل اکاؤنٹ سے منسلک ای میل ایڈریس کو تبدیل کر سکیں، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ اس سے قبل گوگل کی پالیسی کے مطابق ایک بار بنایا گیا جی میل ایڈریس مستقل سمجھا جاتا تھا اور صارف کو نیا ایڈریس حاصل کرنے کے لیے نیا اکاؤنٹ بنانا پڑتا تھا، جس کے نتیجے میں پرانی ای میلز، روابط اور دیگر اہم ڈیٹا کی منتقلی ایک مشکل مرحلہ بن جاتی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئی سہولت سے متعلق تفصیلی ہدایات فی الحال گوگل کے سپورٹ پیج کے صرف ہندی ورژن پر دستیاب ہیں۔ اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے، تاہم اسی صفحے پر یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ سہولت مرحلہ وار دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرائی جائے گی۔

اس پیش رفت سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ گوگل مستقبل قریب میں اس فیچر کو عالمی سطح پر فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اگرچہ اس عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب گوگل کے سپورٹ پیج کے انگریزی ورژن پر اب بھی وہی پرانی ہدایات موجود ہیں جن کے مطابق جی میل ایڈریس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیچر ابھی آزمائشی یا محدود دائرے میں ہے اور مکمل طور پر تمام صارفین کے لیے فعال نہیں ہوا۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اکثر گوگل اس طرح کے فیچرز پہلے مخصوص خطوں میں متعارف کراتا ہے تاکہ صارفین کے ردِعمل اور تکنیکی مسائل کا جائزہ لیا جا سکے، جس کے بعد اسے عالمی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے۔

ابھی تک گوگل کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ یا پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے صارفین میں مزید سوالات جنم لے رہے ہیں،تاہم اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر موجود معلومات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ کمپنی اس دیرینہ مطالبے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

اگر یہ فیچر مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف عام صارفین بلکہ کاروباری اور پیشہ ور افراد کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا، جو برسوں سے ایک غیر موزوں ای میل ایڈریس کے ساتھ کام کرنے پر مجبور تھے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شناخت کے اس دور میں ای میل ایڈریس کسی فرد کی پیشہ ورانہ ساکھ کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ایسے میں گوگل کا یہ قدم صارفین کو اپنی ڈیجیٹل پہچان بہتر بنانے کا ایک نیا موقع فراہم کرے گا۔  توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقت میں گوگل اس فیچر سے متعلق مزید وضاحت اور تفصیلات بھی جاری کرے گا، جس کے بعد دنیا بھر کے صارفین اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میل ایڈریس صارفین کے کے مطابق اس فیچر کے لیے جی میل

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی