آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
مظفرآباد: (آئی پی ایس) آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے نو تعینات جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا جس سے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مکمل ہو گئی۔
چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے جسٹس خالد یوسف چودھری سے حلف لیا، حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر میں منعقد ہوئی۔
حلف برداری تقریب میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین، ہائیکورٹ کے جسٹس خالد رشید چوہدری، سابق سینئر جج سپریم کورٹ خواجہ محمد نسیم، سابق جج سپریم کورٹ غلام مصطفی مغل، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ صداقت حسین راجہ، چیئرمین سروس ٹریبونل، چیئرمین انوائرمنٹل ٹریبونل، وائس چیئرمین بار کونسل طارق بشیر، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد خان، سیکرٹری سپریم کورٹ بار ، صدر ہائی کورٹ بار راجہ وسیم یونس، سیکرٹری ہائیکورٹ بار، صدر سینٹرل بار سید انیس الحسن گیلانی، بار کونسل اور آزاد کشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران و نمائندگان، سیکرٹریز حکومت سمیت وکلاء نے نے بھی شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، سیکرٹری قانون آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر ارشاد احمد قریشی نے خالد یوسف چودھری کی بطور جج سپریم کورٹ تعیناتی کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا، جسٹس خالد یوسف چودھری اس سے قبل جج ہائی کورٹ بھی رہ چکے ہیں اور سپریم کورٹ تعیناتی کے وقت وہ بطور کسٹوڈین جائیداد متروکہ فرائض انجام دے رہے تھے۔
جسٹس خالد یوسف چودھری نے 1995 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کر کے اسی سال بطور وکیل میرپور میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔
آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے مطابق آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ تین ججز کے بعد مکمل ہو جاتی ہے، تین ججز میں چیف جسٹس ، ایک سینئر اور ایک جج شامل ہوتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لئے حکومت آزاد جموں و کشمیر سینئر وکلا پر مشتمل پینل وزیراعظم پاکستان و چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل کو بھیجتی ہے جو بھیجئے گئے وکلا کے پینل میں سے سینئر وکیل کی بطور جج تعیناتی کی منظوری دے کر ایڈوائس واپس حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بھیج دیتے ہیں، اس کے بعد حکومت آزاد جموں و کشمیر کا محکمہ قانون چیئرمین کشمیر کونسل کی طرف بھیجے گئے نام کی بطور جج تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری، چیف ویپ کو چوتھا خط ارسال قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری، چیف ویپ کو چوتھا خط ارسال خواتین کیخلاف نازیبا سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق کیس: جرم کو سختی سے دیکھنا ہوگا، جج سپریم کورٹ کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ کم آمدن افراد کیلئے پنجاب میں 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروع لاہور میں بسنت 2026 کی اجازت، ڈپٹی کمشنر کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ازبکستان کی فعال دیپلماتکن: 2025 — متحرک مکالمے سے ٹھوس نتائج تکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس خالد یوسف چودھری نے جموں و کشمیر سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔