یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد، وزیر داخلہ سندھ کا ردِ عمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سٹی کورٹ کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر حملے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ رجب بٹ پر تشدد کے معاملے پر چیف جسٹس سے بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں جو ہوا ہے وہ وکیل کا کام نہیں ہے، وہاں کورٹ پولیس موجود تھی۔
سٹی کورٹ کراچی میں یوٹیوبر رجب کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوئی ہے۔
ضیا لنجار نے مزید کہا کہ کورٹ پولیس ملزمان کو پیش کرنے اور لے جانے کے لیے ہوتی ہے، یوٹیوبر پر حملے پر افسوس ہوا ہے۔
یاد رہے کہ آج صبح عدالت آمد پر وکلاء نے یوٹیوبر رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد رجب بٹ نے ایک وی لاگ بنایا تھا جس میں انہوں نے مدعی مقدمہ کے حوالے سے کچھ نامناسب الفاظ کہے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یوٹیوبر رجب بٹ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔