Jasarat News:
2026-06-03@02:12:11 GMT

فلورملز کے مطالبات کے سامنے سندھ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251230-06-21
کراچی (کامرس رپورٹر) کراچی میں فلور ملز کی جانب سے ممکنہ احتجاج اور الٹی میٹم کی دھمکی کے بعد سندھ حکومت نے ٹریڈرز کو گندم کی فراہمی کے جاری کردہ آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔محکمہ خوراک سندھ کے ہنگامی مراسلے کے مطابق گندم کے اجرا کے لیے ٹریڈرز کو جاری کیے گئے تمام نئے چالان روک دیے گئے ہیں، تاہم پہلے سے جاری شدہ چالان پر ٹریڈرز گندم اٹھا سکیں گے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے گندم کے ریٹ اور گندم ٹریڈرز کو دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ کو دوبار48گھنٹے کاالٹی میٹم دیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کہ فلور ملوں کو 100کلو گرام گندم کی بوری 9500روپے جبکہ ٹریڈرز کو 8ہزار روپے میں دی جا رہی تھی مگر سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب محکمہ خوراک فلور ملوں کو بھی 8ہزاررو پے کے حساب سے گندم کی 100کلو گرام کی بوری فراہم کرے گا۔ فلور ملز نے اس سے قبل گندم ٹریڈرز کو دینے کے فیصلے پر شدید احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ٹریڈرز کو گندم فراہم کی گئی تو 15 جنوری کے بعد آٹے کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ تھا۔ سندھ حکومت نے فلور ملز کی دی گئی دوسری مہلت ختم ہونے سے قبل ہی نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا، جبکہ حکومت اس معاملے پر پہلے ہی سیکریٹری فوڈ کو عہدے سے ہٹا چکی ہے۔حکومتی فیصلے کے بعد کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ختم ہو گیا ہے اور شہریوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

کامرس رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت ٹریڈرز کو فلور ملز

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود