ریل گاڑی کی ہر کھڑکی سے ایک نئی دنیا کا نظارہ، ٹرین کا آرام دہ سفر 2025ء میں کتنا کٹھن رہا، آمدن کیا رہی؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز

Year End Story

ریل گاڑی آج بھی دنیا کی محفوظ ترین، آرام دہ اور سستا ترین سفری سہولت سمجھی جاتی ہے، پاکستان میں لاکھوں افراد روزانہ ایک سے دوسرے شہر کا سفر کرنے کے لیے ریل کے سفر کو ہی ترجیح دیتے ہیں، پاکستان ریلویز کا جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد دوسرا بڑا نیٹ ورک ہے، ملک کے طول و عرض میں 11 ہزار 881 کلومیٹر طویل ٹریک، 500 سے زائد اسٹیشنز اور 68 ہالٹس مسافروں کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی اور سامان کی ترسیل کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سال 2025ء میں ہونے والے حادثات:
پاکستان ریلوے کو اس سال کسی بڑے حادثے کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا البتہ خستہ حال ٹریک، پرانا سگنل سسٹم اور کانٹا کھینچنے کے بوسیدہ نظام کے باعث سال 2025ء میں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 95 حادثات ہوئے، مسافر ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے کے 46، مال گاڑیوں کے 43 اور کچھ دیگر نوعیت کے حادثات رونما ہوئے، کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس ٹرین اور اس کے روٹ پر ریلوے ٹریک کو 8 مرتبہ تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جعفر ایکسپریس ٹرین کو پہلے 11 مارچ اور پھر 18 جون کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں نے کئی بار ریلوے ٹریک کو بموں سے اڑا دیا جس کے باعث ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اترتی رہیں، اسی طرح مختلف اوقات میں جعفر ایکسپریس ٹرین اور ریلوے ٹریک کو کوئٹہ ڈویژن میں تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا۔
یکم اگست کو لاہور سے راولپنڈی جانے والی ریل کار اسلام آباد ایکسپریس ٹرین کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جس میں 30 مسافر زخمی ہوئے، 11 ستمبر کو رینالہ خرد کے قریب مال گاڑی کا انجن دوسری مال گاڑی سے ٹکرا گیا، حادثے میں اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
17 اگست کو لودھراں کے قریب لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین عوام ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ 29 اگست کو پڈعیدن کے قریب مال گاڑی کی 9 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جبکہ 21 مئی کو کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین شالیمار ایکسپریس کو ساہیاں والا دارالاحسان کے قریب حادثہ پیش آیا۔ ٹرین اَن مینڈ لیول کراسنگ پر اینٹوں والے ٹرالے سے ٹکرانے پر ٹرین کی تمام 15 کوچز پٹڑی سے اتر گئیں۔


تیس مئی کو رحمان بابا ایکسپریس ٹرین اَن مینڈ لیول کراسنگ پر ٹرالے سے ٹکرا گئی، یکم جون کو پاکستان ایکسپریس کو مبارک پور کے قریب حادثہ پیش آیا اور ٹرین کی ڈائننگ کار کے نیچے سے پوری ٹرالی نکل گئی تاہم ٹرین بڑے حادثے سے محفوظ رہی۔
چودہ جون کو ٹرینوں کے تین واقعات ہوئے۔ پشاور جانے والی ٹرین خوشحال خان خٹک ٹرین کی 6 بوگیاں کند کوٹ کے مقام پر پٹڑی سے اتر گئیں۔ اسی روز علامہ اقبال ایکسپریس ٹرین بھی بڑے حادثے سے بچ گئی، ٹرین کے چلتے چلتے بریک بلاک میں خرابی پیدا ہوگئی۔


تھل ایکسپریس ٹرین کار سے ٹکرا گئی، 18 جون کو جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد کے قریب تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا۔ ریلوے ٹریک کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا اور ٹرین کی 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

سال 2025ء میں ریلوے کی ریکارڈ آمدن:
پاکستان ریلوے نے سابق حکومت کے دور میں بند ہونے والی متعدد ٹرینوں کو دوبارہ بحال کیا اور مسافروں کی سہولت کے لیے نئی بوگیاں بھی لگائیں، مختلف روٹس پر چلنے والی لوکل ٹرینوں کی بوگیوں میں بھی اضافہ کیا جس سے مسافروں کا ریلوے پر اعتماد بڑھا اور مختلف لوکل روٹس کو پہلے سے زیادہ منافع بخش بنانے میں مدد ملی، وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت میں محکمہ ریلوے نے مسافروں کا اعتماد جیتا اور ریکارٖڈ 93 ارب روپے سے زائد سے زائد ریونیو حاصل کیا، محکمہ ریلوے کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 50 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن ہوئی ہے۔

اسٹیشنز کی تزئین و آرائش اور ریلوے کا مستقبل:
محکمہ ریلوے حکام کے مطابق ٹرینوں کے حادثات میں کمی لانے کے لیے سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ میں تبدیل کیا گیا ہے جس سے حادثات کی شرح 0.

09 سے 0.04 فیصد پر آ گئی ہے، کراچی تا روہڑی ٹریک بنانے کے منصوبہ پر پیش رفت ہونے جا رہی ہے، سال 2025 میں راولپنڈی کو ملک کا پہلا اسمارٹ اسٹیشن بنا دیا گیا جہاں کیمرے اور جدید سکیورٹی سسٹم نصب ہے۔ 2026ء میں دیگر بڑے اسٹیشن بھی اسمارٹ بننے جا رہے ہیں اور ٹرینوں میں بھی کیمرے لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ریلوے نے صرف 8 ماہ میں شالیمار، پاک بزنس، لاثانی، فیض احمد فیض سمیت 8 ٹرینوں کے ریکس کو اَپ گریڈ کیا۔
لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد اسٹیشنز کو بھی اپ گریڈ کرکے ریلوے کو ڈیجیٹائز کر دیا ہے، اسی طرح وزارت کا تمام کام ای فائلنگ پر منتقل کر دیا ہے، اب تمام بڑے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم، ڈی وی ایم اور پی او ایس مشینیں موجود ہیں۔ ملازمین کی حاضری بھی کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے، بغیر دفتر آئے کوئی تنخواہ نہیں لے سکتا، اس سب موثر اقدامات کے بعد پاکستان کی نظریں ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل پر ہیں جس کے تحت پاکستان ریلوے جلد ہی جدید ترین نظام سے منسلک ہو جائے گی، اگرچہ معیار چین یا امریکی ریلوے جیسا تو نہیں البتہ یہ علاقائی طور پر کافی ہو گا جو بڑی بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کو جوڑنے پر کصوصی توجہ مرکوز کرے گا جس کا مقصد 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تیز رفتار اور بہتر مال برداری کے لیے نقل و حرکت کی بہتر سہولت میسر ہو سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ کی ملاقات ،پسماندہ علاقوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ کی ملاقات ،پسماندہ علاقوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال وزیراعظم کا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار افسوس بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا انتقال کر گئیں میجر عدیل زمان شہید کی نماز جنازہ پشاور گیریژن میں ادا کر دی گئی،فیلڈ مارشل ،وزیر داخلہ و دیگر کی شرکت سرکاری ملازمین پر سیاسی اجتماعات اور سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہمارا ملک امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے: ایرانی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل