بحرانوں کا پائیدار حل رسول ؐ کی حکمتِ انقلاب میں ہے‘ ڈاکٹر اسامہ رضی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا واحد پائیدار حل رسولِ اکرم ؐکی حکمتِ انقلاب میں مضمر ہے جو جبر یا طاقت کے بجائے عدل، اخلاق اور قانون کی بالادستی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے میں افسر شاہی، جاگیرداری اور طبقاتی اجارہ داری نے عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جس کے باعث معاشرہ شدید عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع جامع مسجد بلال میں منعقدہ ضلعی تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ رسول اللہؐ نے جو انقلاب برپا کیا، وہ انسان کے باطن کی اصلاح سے شروع ہوا اور ایک منصفانہ ریاست کے قیام پر منتج ہوا۔ یہی حکمت آج بھی پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جس نظریے اور کلمہ حق کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، اس کا تقاضا ہے کہ یہاں قانون سے بالاتر کسی طبقے کو قبول نہ کیا جائے۔ اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے جوابدہ نظام کے تحت استعمال ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین سے انحراف دراصل ریاستی مقاصد سے انحراف کے مترادف ہے۔ تربیتی اجتماع سے نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان شیخ عثمان فاروق، سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم‘ سی ای او الخدمت کراچی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نوید علی بیگ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر اپنے خطاب میں نے کارکنان کے حوصلوں کو مہمیز کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے اجتماعِ عام میں دیے گئے اہداف کو ان شاء اللہ سو فیصد حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان امیر جماعت اسلامی نے کہا
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram