اسرائیل نے یو این ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کے لیے سفارتی استثنا ختم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ /تل ابیب /جنیوا /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے یو این ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کے لیے سفارتی استثنا ختم کر دیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے یو این ایجنسی کا استثنا ختم کرنے کی منظوری دیدی، قانون سازی سے انروا کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں قانونی کارروائی کی جاسکے گی، اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں انروا کے 2 دفاتر ضبط کر سکیں گے۔ خبرایجنسی نے مزید بتایا کہ یہ قانون اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالی خدمات فراہم کرنے سے روکتا ہے، اسرائیل نے گزشتہ سال انروا پر پابندی عاید کی تھی۔انروا کا کہنا ہے کہ اسرائیل یو این ایجنسی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایجنسی پورے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران غزہ کی نئی انتظامی حکومت سمیت اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں ہونے والی اس ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو یقین دلایا کہ حماس خود کو غیر مسلح کرنے کے وعدے پر جلد عمل کرے گی۔امریکی صدر نے متنبہ کیا کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا اگر اس نے یہ نہیں کیا تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنے اور جہنم جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ حکام نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیل کی بعض پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ملاقات امریکا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں ہوئی، جہاں ٹرمپ اور ان کے سینئر مشیروں نے خاص طور پر یہ مسئلہ اٹھایا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے جبکہ یہ تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔امریکی حکام نے اسرائیلی بستیوں میں توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کے اربوں ڈالر کے ٹیکس فنڈز روکنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان فنڈز کی بندش کے باعث رام اللہ میں قائم فلسطینی حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور اس کے نظام کے مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی کسی بھی بے دخلی کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان سمیت کئی ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام پر سوال اٹھایا ہے کہ وہ صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کر رہا ہے اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آیا اس کا مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی یا وہاں فوجی اڈے قائم کرنا تو نہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اس خطے کا ذکر پہلے فلسطینیوں، بالخصوص غزہ سے تعلق رکھنے والوں، کی جلاوطنی کے لیے ممکنہ منزل کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔یہ بات پاکستان کے نائب مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ محمد عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی، جو اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بلایا گیا تھا۔ امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف-15 جنگی طیاروں کی فراہمی کا 8.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ صومالی لینڈ کو یو این ایجنسی نے اسرائیلی امریکی صدر نے اسرائیل اسرائیل کی نیتن یاہو کے دوران تسلیم کر کے مطابق ہے کہ ا کیا ہے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔