اسلام آباد:

دفترخارجہ نے یمن میں کشیدگی میں دوبارہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یمن میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورت حال کو مزید کشیدہ کریں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ طاہراندرابی کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نے یمن میں تشدد کے دوبارہ بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستان یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ملک میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورت حال کو مزید کشیدہ کریں، امن کوششوں کو نقصان پہنچائیں اور یمن کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے اور پاکستان یمن مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی عمل کی مضبوط حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور پائیدار حل کی جانب پیش قدمی کریں گی، جو علاقائی استحکام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان یمن کہ پاکستان کا اظہار کی جانب کرتا ہے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف