جاوید اوڈھو نے آئی جی سندھ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 22 کے افسر غلام نبی میمن انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے عہدے سے آج ریٹائر ہوگئے، جاوید اوڈھو نے آئی جی سندھ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔
نوٹیفکیشن کے اجراء تک جاوید اوڈھو ایڈیشنل آئی جی کراچی بھی رہیں گے۔
اللّٰہ بخش عرف جاوید اختر اوڈھو نے 11 جولائی 1998 کو سندھ پولیس جوائن کی، جاوید اختر اوڈھو کی پہلی پوسٹنگ ڈویژنل پولیس آفیسر لاڑکانہ تعینات تھی۔
جاوید اختر اوڈھو ڈی پی او گھوٹکی، بدین، داد، جام شورو بھی تعینات رہے، ایس پی اسپیشل برانچ کے بعد ٹھٹھہ، مٹیاری اور حیدرآباد بھی رہے، وہ ڈی آئی جی ویسٹ کراچی، اسپیشل برانچ سکھر، آر آر ایف بھی رہے ہیں۔
انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ کراچی ایڈمن میرپور خاص ڈی آئی جی فنانس بھی خدمات سر انجام دیں، جاوید اوڈھو سال 2019 میں بلوچستان میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، اسپیشل برانچ اور انویسٹی گیشن سندھ بھی رہے، جاوید اوڈھو سال 2022 میں کراچی پولیس چیف تعینات کیے گئے، دوسرے دور میں جولائی 2024 سے اب تک ایڈیشنل کراچی خدمات دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جاوید اوڈھو
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔