آسان فنانسنگ کا مقصد پنجاب میں بزنس کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا وژن اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی کاوشوں سے آسان کاروبار فنانس سکیم نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی قیادت میں آسان کاروبار فنانس اور آسان کاروبار کارڈ سکیم کے لئے چھ ماہ کے قلیل عرصے میں 70 ارب روپے کے بلا سود قرض دیئے گئے۔ پنجاب میں پہلی بار آسان کاروبارکارڈ اور فنانس سکیم سے 108371 بزنس پرموٹ ہوئے جبکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھے ہیں۔ آسان کاروبارفنانس سکیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا۔ پہلے مرحلے میں 4238 افراد کو 16 ارب 31 کروڑ روپے بلاسود قرضے مل گئے۔ پنجاب حکومت نے آسان کاروبارفنانس سکیم میں 203 خواتین انٹرپرینیورکوکاروبار کیلئے ایک ارب 82 کروڑ روپے لون جاری کیے۔ ایگریکلچر سیکٹر کو 403 ارب، ٹریڈ سیکٹر کو 33.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا سان کاروبار کارڈ سکیم ا سان کاروبار فنانس فنانس سکیم مریم نواز ارب روپے کے لئے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔