data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی جانب سے نئے سال کی آمد پر گورنر ہاؤس میں شاندار آتش بازی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی جبکہ فضا رنگا رنگ روشنیوں سے جگمگا اٹھی۔

گورنر سندھ نے پوری قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 2025 پاکستان کے لیے عسکری، سفارتی اور معاشی بالادستی کا سال ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں ایس آئی ایف سی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی قیادت چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ سال 2025 میں پاکستان عالمی سطح پر مرکزِ نگاہ بنا رہا، جبکہ سال کے اختتام پر ینگ کرکٹ ٹیم کی جانب سے بھارت کو شکست دینے پر قوم کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف کامیابی قوم کے لیے ایک یادگار تحفہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کی شکر گزار ہے اور 2026 کے لیے دعا ہے کہ ملک دشمن عناصر اور سازشی قوتوں کو شکست ہو۔ انہوں نے کہا کہ سازشی عناصر 2026 میں اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے اور عبرت کا نشان بنیں گے۔

آخر میں گورنر سندھ نے 2025 کے اختتام پر کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھرپور شرکت نے گورنر ہاؤس کے تمام پروگرامز کو کامیاب بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انشا اللہ 2026 میں عوامی خدمت اور ویلفیئر کے مزید بڑے پروگرامز منعقد کیے جائیں گے اور گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھلے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گورنر ہاؤس گورنر سندھ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی