آن لائن خریداری میں دھوکہ کھانے سے بچنے کے آسان طریقے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
آج کے ڈیجیٹل دور میں آن لائن خریداری عام ہو چکی ہے، لیکن اسی کے ساتھ آن لائن فراڈ کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین چند بنیادی احتیاطی تدابیر اپنائیں تو زیادہ تر دھوکے سے بچا جا سکتا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں آن لائن مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
معتبر ویب سائٹس کا انتخاب کریں:
ہمیشہ مشہور اور مستند ویب سائٹس یا برانڈز کے آفیشل پلیٹ فارمز سے خریداری کریں۔ کسی نئے یا نامعلوم اسٹور سے خریداری کرنے سے پہلے اس کی ریٹنگ، ریویوز اور صارفین کے تجربات ضرور دیکھیں۔ جعلی ویب سائٹس اکثر غیر معمولی ڈیلز اور انتہائی کم قیمتوں کے ذریعے صارفین کو بہکانے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے فوری بھروسہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ادائیگی میں احتیاط:
آن لائن خریداری ہمیشہ محفوظ پیمنٹ گیٹ ویز کے ذریعے کریں۔ غیر معروف بینک ٹرانسفرز یا براہِ راست اکاؤنٹ نمبر بھیجنے سے گریز کریں۔ اگر ممکن ہو تو کیش آن ڈیلیوری کا آپشن ترجیح دیں، خاص طور پر پہلی بار آرڈر کرتے وقت۔ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی معلومات صرف HTTPS والے محفوظ پلیٹ فارمز پر درج کریں۔
پروڈکٹ کی تفصیلات اور تصاویر دیکھیں:
معتبر اسٹورز اپنی مصنوعات کی اصل تصاویر فراہم کرتے ہیں، جبکہ جعلی اسٹورز اکثر انٹرنیٹ سے لی گئی غیر متعلقہ تصاویر استعمال کرتے ہیں۔ اگر ویب سائٹ پر واٹس ایپ نمبر دیا گیا ہو تو گفتگو کے اسکرین شاٹس محفوظ رکھیں تاکہ کسی مسئلے کی صورت میں ثبوت موجود رہے۔
پارسل وصول کرنے کے وقت احتیاط:
ڈلیوری کے وقت پارسل کھولنے کی اجازت نہ ملے تو اسے فوراً قبول کرنے کے بجائے ویڈیو بناتے ہوئے کھولیں۔ اگر پروڈکٹ مختلف ہو، ٹوٹی ہوئی ہو یا کم قیمت کی چیز بھیجی گئی ہو تو آپ کے پاس واضح ثبوت موجود ہو گا، جو کمپنی یا بینک کے پاس شکایت درج کرانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ریٹرن پالیسی اور کسٹمر سروس:
ہمیشہ ایسے برانڈز یا اسٹورز پر اعتماد کریں جو واضح ریٹرن پالیسی، کسٹمر سپورٹ اور مکمل معلومات فراہم کرتے ہوں۔
آخر میں، احتیاط، تحقیق اور ذمہ دارانہ خریداری نہ صرف دھوکہ دہی سے بچاتی ہے بلکہ آن لائن شاپنگ کے تجربے کو بھی محفوظ اور خوشگوار بناتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ن لائن
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔