اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت نئے سال کے پہلے دن معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اس موقع پر مختلف وزارتوں کی طرف سے وزیراعظم کو جاری ترقیاتی منصوبوں اور معاشی، ادارہ جاتی انتظامی اصلاحات پر جاری کام کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے معاشی ترقی اور اصلاحات کی تجاویز میں وزارتوں کے مابین باہمی ہم آہنگی اور صوبوں اور وفاقی اداروں کے باہمی تعاون کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات پر مبنی معاشی گورننس کی پالیسی پر تمام وزارتوں کی طرف سے مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔سرمایہ کاروں کی آسانی کے لیے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اپنے شعبوں سے متعلقہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سفارشات جلد از جلد مرتب کریں۔سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کی ترویج کی تجاویز اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موثر معاشی اصلاحات اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے تمام وزارتوں کی باہمی ہم آہنگی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون کلیدی کردار رکھتا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے متعلقہ وزارتیں دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مؤثر تعاون کریں۔ پاکستانی سفارتخانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات اور دیگر اہم معلومات کی ابتدائی آگاہی کو یقینی بنایا جائے۔ وزارتیں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے صنعتی پیداوار ، زراعت اور دیگر تمام اہم شعبوں پر یکساں توجہ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال