نواب شاہ: سال نو پر ہوائی فائرنگ روکنے میں پولیس کا دعویٰ جھوٹا نکلا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ( نمائندہ جسارت ): نیو ایئر نائٹ پر ہوائی فائرنگ روکنے کے پولیسی دعوؤں کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ ڈی آئی جی کے سخت احکامات کے باوجود ضلع پولیس شہید بینظیر آباد کی ’’مؤثر کارروائی‘‘ محض ایک ملزم کی گرفتاری تک محدود رہی۔ تھانہ بی سیکشن نے جمیل آرائیں نامی شخص کو پسٹل سمیت گرفتار کر کے اپنی کارکردگی کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے، جسے عوامی حلقوں نے ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ قرار دیا ہے۔شہریوں کا طنزیہ سوال ہے کہ کیا پورے نواب شاہ میں صرف جمیل آرائیں نے ہی فائرنگ کی تھی؟ باقی شہر میں جو ’’فائرنگ کے ڈورے‘‘ گونجتے رہے، وہ پولیس کے کانوں تک کیوں نہیں پہنچے؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پریس ریلیز اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کا خدشہ درست تھا کہ قانون کا شکنجہ صرف کمزور کے لیے ہے، بااثر افراد کے لیے پولیس کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔