ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگانے والے کرکٹر پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-6
سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی انتہا پسندی بے نقاب ہوگئی، ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگا کر میچ کھیلنے والے مسلمان کرکٹر پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک مسلمان کرکٹر کو محض فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس سے بھارت کی فلسطین مخالف اور مسلم دشمن سوچ ایک بار پھر عیاں ہو گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ ‘جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ’ میں فرقان بھٹ نامی کرکٹر اپنے ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگا کر میدان میں اترا جس کے بعد ٹورنامنٹ تنازع میں گھر گیا۔یہ میچ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے کے سی اسپورٹس کلب میں منعقد ہوا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ منتظمین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا تاہم بھارتی انتہا پسندی ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی اور مسلمان کرکٹر فرقان بھٹ پر آئندہ لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فرقان بھٹ کو مقبوضہ کشمیر پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ میچ کے دوران فلسطینی جھنڈا استعمال کرنے کے پیچھے کیا مقصد ہے۔یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی ایم پی پروین کھنڈیلوال برہم ہوگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی ایم پی نے کہا کہ اگر آپ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو بھارتی پرچم لہرانا ہوگا۔ جو بھی فلسطینی پرچم لہرائے گا اسے بھارت سے محبت نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ واقعہ بھارت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف اظہارِ رائے کی آزادی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب فلسطین کے حق میں ایک علامتی اظہار بھی برداشت نہیں ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پر پابندی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔