اسلام آباد ہائیکورٹ نے کسی قانونی عمل کے بغیر گرفتاری کو اغواء قرار دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کسی قانونی عمل کے بغیر گرفتاری کو اغواء قرار دے دیا۔
پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم جاری کردیا، جس میں پولیس کی بغیر قانونی پراسیس گرفتاری کو اغواء قرار دیا گیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کےمطابق ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے، پراسیس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کارروائی کالعدم ہوگی۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ طے کر چکی کہ ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو ساری کارروائی ختم ہونی چاہیے، سپریم کورٹ نے یہ بھی طےکیا کہ کریمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا اسکوپ محدود ہے، عدالت کو غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔