پاکستان میں سال 2025 کے اختتام پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کمی عام شہریوں کے لیے مکمل ریلیف کی ضمانت نہیں۔

 دسمبر 2025 کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 5.6 فیصد رہی، جو نومبر میں 6.1 فیصد اور دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد تھی۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مجموعی مہنگائی میں کمی آئی ہے، لیکن گھریلو صارفین پر قیمتوں کا دباؤ بدستور برقرار ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔

ماہانہ بنیاد پر دسمبر 2025 میں سی پی آئی میں 0.

4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ نومبر میں یہی شرح 0.4 فیصد اضافے پر رہی تھی۔ گزشتہ سال دسمبر میں ماہانہ مہنگائی میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ شہری علاقوں میں دسمبر کے دوران سالانہ مہنگائی 5.8 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں کم مگر گزشتہ سال کے اسی مہینے سے زیادہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہری مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر طویل مدتی مسائل کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق 2025 کے اختتام پر قیمتوں کے دباؤ میں کمی بڑی حد تک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق رہی۔ بروکریج ہاؤسز کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں غذائی اشیا، خاص طور پر سبزیوں جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی، بہتر سپلائی چین اور موافق بیس ایفیکٹ شامل ہیں۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق غذائی قیمتوں میں نرمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی مہنگائی کو کئی سال کی کم ترین سطح پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دسمبر کے دوران غذائی مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد کم ہوئی، جس سے قلیل مدت میں صارفین کو کچھ سہولت ضرور ملی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ریلیف غیر مساوی اور ممکنہ طور پر عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ بنیادی مہنگائی، خاص طور پر شہری علاقوں میں، اب بھی بلند سطح پر ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ساختی مسائل بدستور موجود ہیں۔

علاوہ ازیں تعلیم، صحت، رہائش سے متعلق یوٹیلیٹیز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز جیسے شعبے مہنگائی میں اضافے کے بڑے محرک بنے رہے۔ ان شعبوں میں قیمتوں کا بڑھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لاگت کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ٹورس سیکیورٹیز کے مطابق اگرچہ بعض شعبوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق محدود رہی، تاہم یوٹیلیٹیز، ملبوسات اور خدمات کے شعبے بنیادی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟