مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد، عوام تاحال دباؤ میں، شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان میں سال 2025 کے اختتام پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کمی عام شہریوں کے لیے مکمل ریلیف کی ضمانت نہیں۔
دسمبر 2025 کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 5.6 فیصد رہی، جو نومبر میں 6.1 فیصد اور دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد تھی۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مجموعی مہنگائی میں کمی آئی ہے، لیکن گھریلو صارفین پر قیمتوں کا دباؤ بدستور برقرار ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔
ماہانہ بنیاد پر دسمبر 2025 میں سی پی آئی میں 0.
اس کے ساتھ ساتھ شہری مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر طویل مدتی مسائل کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 2025 کے اختتام پر قیمتوں کے دباؤ میں کمی بڑی حد تک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق رہی۔ بروکریج ہاؤسز کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں غذائی اشیا، خاص طور پر سبزیوں جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی، بہتر سپلائی چین اور موافق بیس ایفیکٹ شامل ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق غذائی قیمتوں میں نرمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی مہنگائی کو کئی سال کی کم ترین سطح پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دسمبر کے دوران غذائی مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد کم ہوئی، جس سے قلیل مدت میں صارفین کو کچھ سہولت ضرور ملی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ریلیف غیر مساوی اور ممکنہ طور پر عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ بنیادی مہنگائی، خاص طور پر شہری علاقوں میں، اب بھی بلند سطح پر ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ساختی مسائل بدستور موجود ہیں۔
علاوہ ازیں تعلیم، صحت، رہائش سے متعلق یوٹیلیٹیز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز جیسے شعبے مہنگائی میں اضافے کے بڑے محرک بنے رہے۔ ان شعبوں میں قیمتوں کا بڑھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لاگت کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
ٹورس سیکیورٹیز کے مطابق اگرچہ بعض شعبوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق محدود رہی، تاہم یوٹیلیٹیز، ملبوسات اور خدمات کے شعبے بنیادی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔