شہرِ قائد کی ابتر حالت؛ ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی:شہر قائد کی ابتر حالات کے پیش نظر ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہمُ کا اعلان کردیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بہادرآباد مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، سید امین الحق اور دیگر رہنما شریک تھے۔ پریس کانفرنس میں شہر کے بنیادی مسائل، معیشت میں کردار اور مستقبل کی حکمت عملی پر مؤقف پیش کیا گیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو ایک بار پھر وہ حیثیت دینا ہوگی جس کا یہ شہر حقدار ہے۔ کراچی سے 65 فیصد قومی اور 95 فیصد صوبائی ریونیو جاتا ہے جب کہ ملک کی 50 فیصد سے زائد ایکسپورٹ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج رسمی طور پر’کراچی بچاؤ مہم‘ کا آغاز کررہے ہیں۔ کراچی کا انفرااسٹرکچر انتہائی بری صورتحال میں ہے جب کہ نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی خستہ حالی شہر کے بنیادی مسائل بن چکے ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سال 2025 میں ایک تاریخی معرکہ سر کیا گیا اور 6 مئی سے 10 مئی 2025 کا عرصہ ملکی تاریخ اور فتوحات کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس دوران ملک کے عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ نئے سال 2026 میں اگلا معرکہ’معرکہ معیشت‘ ہوگا جس کا ہدف پاکستان کو معاشی طور پر آزاد اور خودمختار بنانا ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری دنیا کے ساتھ قدم بقدم ساتھ کھڑا ہے۔ ملک کی بقا و سلامتی کراچی کی بقا و سلامتی سے وابستہ ہے اور کراچی کی تعمیر و ترقی سے ہی ملک کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فاروق ستار
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔