امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا پر حملوں کی تصدیق کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ٹرمپ نے وینیزویلا پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ وینیزویلا اور اس کی قیادت کیخلاف آپریشن کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔ امریکی صدر اس حوالے سے مزید تفصیلات آج رات پریسن کانفرنس میں بتائیں گے۔

دوسری جانب کولمبیا اور کیوبا نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کیوبا کے صدر کا کہنا تھا کہ وینیزویلا پر امریکا کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ حملے کے خلاف بین الاقوامی برادری کے فوری ردِعمل کا مطالبہ کرتا ہوں۔

اسی طرح روس نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وینیزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے وینزویلا پر فضائی حملے، زمینی فوج بھی اتارنے کی تیاری

واضح رہے کہ امریکا نے وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور کئی ریاستوں پر فضائی حملے کردیے ہیں جس میں ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔ شہریوں نے نچلی فضا میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سی ایچ 47 چینوک کو بھی اُڑتے ہوئے دیکھا جس کے بعد امریکی دھمکیوں کے حوالے سے جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینیزویلا پر نے وینیزویلا حملوں کی گیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی