توانائی ماہرین کے مطابق وینزویلا میں امریکی سرمایہ کاری کے دعوؤں کے باوجود تیل کی پیداوار میں فوری یا قلیل مدت میں کوئی بڑا اضافہ ممکن نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد امریکی آئل کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا گیا، تاہم توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج سامنے آنے میں 5 سے 7 سال لگ سکتے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر، مگر پیداوار انتہائی کم

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے اندازاً تیل ذخائر موجود ہیں، لیکن بدانتظامی، سرمایہ کاری کی کمی اور قومیانے کی پالیسیوں کے باعث پیداوار کئی دہائیوں سے مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

1970 کی دہائی میں وینزویلا یومیہ 35 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جو اس وقت عالمی پیداوار کا 7 فیصد سے زائد تھا۔
گزشتہ برس پیداوار کم ہو کر 11 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو عالمی پیداوار کا صرف ایک فیصد بنتی ہے۔

قومیانے کی پالیسی اور غیر ملکی کمپنیوں کا انخلا

2000 کی دہائی میں وینزویلا نے تیل کے شعبے کو قومی تحویل میں لے لیا، جس کے نتیجے میں ایکسون موبل، کونوکو فلپس جیسی بڑی امریکی کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں یا ثالثی مقدمات میں الجھ گئیں۔

یہ بھی پڑھیے وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟

غیر ملکی کمپنیوں کو وینزویلا میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے قانونی اصلاحات، تحفظ کی ضمانت اور پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت ہوگی۔

سلامتی، انفراسٹرکچر اور سیاسی عدم استحکام بڑے مسائل

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو کئی سنگین خدشات درپیش ہیں، جن میں سلامتی کے خطرات، تباہ حال انفراسٹرکچر، امریکی کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوالات، طویل المدتی سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔

مارک کرسچین، توانائی کنسلٹنٹ کے مطابق، امریکی کمپنیاں اس وقت تک واپس نہیں آئیں گی جب تک انہیں ادائیگی اور کم از کم بنیادی سیکیورٹی کی یقین دہانی نہ ہو اور پابندیاں ختم نہ کی جائیں۔

پرامن سیاسی منتقلی شرط، ورنہ مزاحمت کا خدشہ

توانائی و جغرافیائی سیاست کے ماہر تھامس او ڈونل کے مطابق اگر امریکا ایک پرامن سیاسی منتقلی یقینی بنا لیتا ہے تو 5 سے 7 برس میں پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی منتقلی امریکی غلبے کا تاثر دے تو برسوں تک مسلح مزاحمت، شہری گروہوں اور گوریلا تنظیموں کی سرگرمیاں جنم لے سکتی ہیں۔

شیوران واحد امریکی کمپنی جو اب بھی وینزویلا میں موجود

فی الحال شیوران واحد امریکی آئل کمپنی ہے جو وینزویلا میں کام کر رہی ہے اور روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل امریکا کے خلیجی ساحل تک برآمد کرتی ہے۔

شیوران انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین کی حفاظت اور اثاثوں کے تحفظ کو ترجیح دے رہی ہے اور تمام قوانین کی مکمل پابندی کر رہی ہے۔

کونوکو اور ایکسون کی ممکنہ واپسی؟

ماہرین کے مطابق کونوکو فلپس کو وینزویلا سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی واجب الادا ہے، اس لیے وہ واپسی میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھ سکتی ہے۔

ایکسون موبل بھی ممکنہ طور پر واپس آ سکتی ہے، تاہم اس کے مالی دعوے نسبتاً کم ہیں۔

کونوکو فلپس نے فی الحال کسی بھی مستقبل کی سرمایہ کاری پر قیاس آرائی سے گریز کیا ہے۔

امریکی صارفین کو فوری فائدہ نہیں ہوگا

ہیوسٹن یونیورسٹی کے توانائی ماہر ایڈ ہرس کے مطابق وینزویلا کی صورتحال کا امریکا میں تیل یا پیٹرول کی قیمتوں پر فوری اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اس وقت وینزویلا کا زیادہ تر تیل کیوبا اور چین کو جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے وینزویلا کے عوام کو آزادی دی، نئی حکومت آنے تک ملک ہم چلائیں گے، معزول صدر پر مقدمہ ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا پہلے بھی عراق اور لیبیا جیسے تیل سے مالا مال ممالک میں حکومتیں گرا چکا ہے، لیکن امریکی کمپنیوں کو وہاں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ خدشہ ہے کہ وینزویلا میں بھی تاریخ خود کو دہرائے گی۔

ایک ممکنہ فائدہ، مگر وہ بھی غیر یقینی

ماہرین کے مطابق اگر امریکا وینزویلا سے خلیجِ امریکا تک تیل کی ترسیل بحال کروا لے تو امریکی ریفائنری کمپنیوں کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، تاہم فی الحال حالات اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں، خاص طور پر دسمبر میں اعلان کردہ امریکی بحری پابندیوں کے بعد۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا تیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا تیل ماہرین کے مطابق وینزویلا میں وینزویلا کے سرمایہ کاری رہی ہے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان