ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس میں شدید خلل دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شہروں میں متعدد افراد کی گرفتاری اور ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

انٹرنیٹ ٹریفک میں 35 فیصد کمی

امریکی سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنی کلاؤڈ فلیئر کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ ٹریفک گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اوسطاً 35 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایرانی صارفین نے جمعرات سے گھریلو اور موبائل انٹرنیٹ سروس میں وقفے وقفے سے تعطل کی شکایات کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ایران میں مظاہرے: امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی

ایران میں ماضی میں بھی احتجاج کے دوران انٹرنیٹ سروس بند یا محدود کی جاتی رہی ہے، حتیٰ کہ صارفین کو صرف مقامی انٹرا نیٹ تک محدود کر دیا جاتا رہا۔
جون کے وسط میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران کئی دن تک انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر بند رہا تھا۔

حکومت کا مؤقف: بڑے سائبر حملے کو ناکام بنایا

حکومت نے احتجاج کے تناظر میں انٹرنیٹ کی سست روی پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم وزیر اطلاعات و مواصلات ستار ہاشمی نے کہا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں اپنی تاریخ کے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کو ناکام بنایا ہے، جس کے باعث انٹرنیٹ بینڈ وڈتھ متاثر ہوئی ہو سکتی ہے۔

احتجاج تہران سے پورے ملک میں پھیل گیا

احتجاج کا آغاز گزشتہ اتوار کو وسطی تہران میں تاجروں اور دکانداروں سے ہوا، جو اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مغربی شہر ہمدان میں ایک نوجوان تاجر کی ہلاکت بھی ان مظاہروں کے دوران ہوئی۔ صوبائی حکام کے مطابق اس موت کو ’مشکوک‘ قرار دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’دشمن عناصر‘ نے حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کی۔

کم عمر لڑکے کی ہلاکت، دستی بم دھماکے کا دعویٰ

قم شہر میں اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار مرتضیٰ حیدری نے تصدیق کی کہ ایک 17 سالہ لڑکا گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔ ان کے مطابق واقعے کے پیچھے ’عناد رکھنے والے عناصر‘ ملوث تھے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک اور شخص، جو مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیموں سے منسلک تھا، دستی بم اس کے ہاتھ میں پھٹا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

پاسدارانِ انقلاب کے رکن کی ہلاکت

ریاستی میڈیا کے مطابق صوبہ ایلام کے شہر مالکشاہی میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ایک سینئر رکن کو مسلح اور نقاب پوش افراد نے ہلاک کر دیا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق شہر میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گرفتاریاں اور اعترافی بیانات

مغربی صوبے لورستان میں کئی دنوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ صوبائی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خرم آباد میں حالیہ احتجاج کے ’3 بڑے رہنماؤں‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کا صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل

ریاستی ٹی وی پر ایسے افراد کے اعترافی بیانات بھی نشر کیے گئے ہیں، جن کے چہرے ڈھانپے گئے تھے، اور جنہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

خامنہ ای کا سخت پیغام

ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز خطاب میں مظاہرین پر غیر ملکی اثر و رسوخ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فسادی عناصر کو ان کی جگہ دکھانا ضروری ہے۔

امریکا اور ایران میں لفظی جنگ

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایرانی مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا ’ان کی مدد کے لیے آئے گا‘۔

یہ بھی پڑھیے ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ’جو لوگ عورتوں اور بچوں پر بم گرا رہے ہیں اور نسل کشی کر رہے ہیں، وہ ہمیں انسانی حقوق کا درس دے رہے ہیں۔‘

حکومتی ریلیاں اور قومی تقریبات

حکام نے ہفتے کی شام وسطی تہران میں بڑی سرکاری ریلی کا اہتمام کیا، جس میں ہزاروں افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ اجتماع حضرت علیؓ کے یومِ ولادت کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔

ملک بھر میں سابق جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر پر مشتمل بینرز بھی آویزاں کیے گئے، جن کی برسی 3 جنوری کو منائی جا رہی ہے۔

معاشی بحران اور ادارہ جاتی تبدیلیاں

ایران گزشتہ کئی برسوں سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
2018 میں امریکی پابندیوں کے بعد مہنگائی کی شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

حالیہ احتجاج کے بعد حکومت نے مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین کو برطرف کر دیا، جبکہ ان کے جانشین عبدالناصر ہمتّی پہلے ہی مواخذے کی زد میں آ چکے ہیں۔

تعلیمی اداروں اور کاروبار بند

سرد موسم اور بجلی کے بحران کے باعث بدھ سے متعدد دفاتر، اسکول، جامعات اور کاروبار بند ہیں۔
کئی آن لائن دکانداروں اور سوشل میڈیا شخصیات نے احتجاج کے دوران کاروبار معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹیوں میں بھی مظاہرے جاری ہیں، جہاں متعدد طلبہ کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں احتجاج سید علی خامنہ ای.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں احتجاج سید علی خامنہ ای انٹرنیٹ سروس احتجاج کے ایران میں کے مطابق کے دوران کیا گیا یہ بھی

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع