امریکی جنرل نے وینزویلا آپریشن کی تفصیلات بتا دیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
جنرل ڈین کین نے بتایا کہ آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، جنہیں 20 مختلف زمینی اور بحری اڈوں سے روانہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے وینزویلا میں کیے گئے امریکی فوجی آپریشن کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے کہا کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کے حکم پر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کی گئی۔ امریکی فوجی سربراہ کے مطابق اس آپریشن کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی اور اس میں دہائیوں کے عسکری تجربے سے فائدہ اٹھایا گیا۔ زمینی، فضائی اور بحری افواج نے مشترکہ طور پر کارروائی کی جبکہ سی آئی اے، این ایس اے، این جی اے اور دیگر انٹیلی جنس اداروں نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ جنرل ڈین کین نے بتایا کہ آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، جنہیں 20 مختلف زمینی اور بحری اڈوں سے روانہ کیا گیا۔ فضائی بیڑے میں ایف 22، ایف 35، ایف 18، ای اے 18، ای 2، بی ون بمبار اور دیگر سپورٹ طیارے شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جوائنٹ فورسز کے لیے ناکامی کوئی آپشن نہیں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فورسز کے کاراکاس پہنچتے ہی امریکی فضائیہ نے وینزویلا کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنایا تاکہ ہیلی کاپٹروں کو ہدف تک محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے امریکی فورسز مادورو کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئیں۔
جنرل ڈین کین کے مطابق آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ بھی کی گئی، ایک ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچا تاہم وہ پرواز کے قابل رہا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام امریکی طیارے اور فورسز بحفاظت واپس پہنچ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی وزارت انصاف نے حراست میں لیا، جبکہ واپسی کے دوران امریکی فورسز نے متعدد دفاعی کارروائیاں بھی کیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر فوجی حملہ کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔کارروائی میں امریکی جنگی طیاروں اور ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ وینزویلا نے امریکی حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنرل ڈین کین نے نے وینزویلا بتایا کہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر