سہیل آفریدی کا زمونگ کور سے بچوں کے نکالے جانے کی فوری انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے زمونگ کور سے بچوں کے نکالے جانے کے معاملے پر فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے قائم ’’زمونگ کور‘‘ ماڈل انسٹیٹیوٹ کا گزشتہ رات اچانک دورہ کیا اور زمونگ کور میں مقیم بچوں اور انتظامیہ سے ملاقات کی، مسائل سنے اور موقع پر احکامات جاری کئے۔
سہیل آفریدی نے زمونگ کور سے 11 بچوں کے نکالے جانے کے معاملے پر فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔
انہوں نے زمونگ کور میں مقیم بچوں کو فراہم کی جانے والی ہائیجین کٹس کی تقسیم سے متعلق بھی انکوائری کی ہدایت کر دی، زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کا بھی حکم دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بچوں کیلئے کمپلینٹ سیل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیر تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کرے گی، انہوں نے ایٹا میرٹ سکالرشپس میں زمونگ کور کے بچوں کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی بھی ہدایت کی اور زمونگ کور کا اکاؤنٹس سسٹم اور بچوں کو وظیفے کی ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل کرنے کا حکم دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کالجز و سپورٹس اکیڈمیز جانے والے بچوں کیلئے ٹرانسپورٹ سروس کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، کھانے کے معیار کا جائزہ لیا، انہوں نے زمونگ کور کے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا، جہاں گزشتہ دورے کے موقع پر جاری کئے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے، زمونگ کور انسٹیٹیوٹ عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم ہیں اور انہیں اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا، زمونگ کور انسٹیٹیوٹ کے تمام معاملات کی بذات خود نگرانی کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے نے زمونگ کور بچوں کیلئے بچوں کی کا حکم
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔