آئی پی ایل سےمستفیض الرحمان کا اخراج،بنگلہ دیش کا ٹورنامنٹ نشریات نہ دکھانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل سے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو نکالے جانے کے معاملے پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے، جہاں حکومت نے نہ صرف اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے بلکہ ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر نظرثانی کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
“I have requested the adviser for Information and Broadcasting to ensure that the broadcast of the IPL in Bangladesh is also suspended.
— Circle of Cricket (@circleofcricket) January 4, 2026
بنگلہ دیش کی مشیر اطلاعات و نشریات سیدہ رضوانہ حسن نے کہا ہے کہ حکومت مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ڈراپ کیے جانے کے بعد ممکنہ ردعمل کے قانونی جواز کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز سیکریٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خاموش رہنا ممکن نہیں۔
سیدہ رضوانہ حسن کے مطابق کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنا، مبینہ طور پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایات پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے، جس نے بنگلہ دیشی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معروف قانونی ماہر اور تعلیمی شخصیت عاصف نذرال نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں آئی پی ایل کی نشریات معطل کرنے پر غور کرے، کیونکہ ان کے بقول کھیل کو سیاست کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی کرکٹ بورڈ کا متعصبانہ فیصلہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا
سیدہ رضوانہ حسن نے کہا کہ حکومت کسی بھی اقدام سے قبل تمام قانونی طریقۂ کار کا بغور جائزہ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے کھلاڑی کو جس کی شمولیت پہلے ہی طے ہو چکی ہو، بظاہر سیاسی بنیادوں پر ٹیم سے نکالنا قابلِ افسوس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل اور ثقافتی روابط عموماً ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اس معاملے میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔
Bangladesh will ask the ICC to relocate their T20 World Cup matches from India to Sri Lanka, after KKR were instructed to release Mustafizur Rahman as a result of deteriorating political ties between Bangladesh and India
Full story: https://t.co/WYhF1tbnyN pic.twitter.com/0ELAc4uFCM
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 3, 2026
جب ان سے براہِ راست آئی پی ایل نشریات روکنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت ابھی قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر سیدہ رضوانہ حسن نے آئندہ عام انتخابات سے قبل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ انتخابی ماحول مجموعی طور پر قابلِ قبول ہے۔
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو اس سیزن میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے کھیلنے کی توقع تھی، تاہم اچانک فیصلے نے بنگلہ دیش میں کھیل، سیاست اور دوطرفہ حساس معاملات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیدہ رضوانہ حسن آئی پی ایل بنگلہ دیش پی ایل سے کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے