کراچی میں کھلے گٹر کے بعد گندے نالے بھی خطرہ بن گئے، خاتون اور بچوں سمیت 5 افراد حادثے کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی میں کھلے نالوں کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین حادثے کا سبب بن گیا، جہاں کورنگی کے علاقے میں ایک تقریب سے واپسی پر خاتون اور بچوں سمیت 5 افراد نالے میں گر گئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو نکال کر اسپتال منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بچے کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کا واقعہ، مرتضیٰ وہاب نے اہم انکشاف کردیا
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں پیش آیا، جہاں نکاسی آب کے لیے بنائے گئے نالے کی چھت ایک مقام سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ اندھیرے اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث خاتون اور بچوں سمیت پانچ افراد ٹوٹے ہوئے حصے سے نالے میں جا گرے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو نالے سے باہر نکالا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 3 افراد کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ’گٹر ڈھکن‘ چور مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری
حکام کا کہنا ہے کہ نالے کی ٹوٹی ہوئی چھت ہی حادثے کی بنیادی وجہ بنی، جس کے باعث راہگیروں کو بروقت خطرے کا اندازہ نہ ہو سکا۔ واقعے نے ایک بار پھر شہر میں کھلے نالوں اور ناقص انفراسٹرکچر کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
ریسکیو اور متعلقہ اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے مقامات پر احتیاط برتیں اور انتظامیہ فوری طور پر نالوں کی مرمت اور ڈھکن لگانے کے اقدامات کرے تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی کورنگی گٹر گندا نالہ مہران ٹاؤن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی کورنگی گٹر گندا نالہ مہران ٹاو ن
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔