پاکستان کے ڈیجیٹل بینکاری نظام پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مستحکم، 20 ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
خصوصی سہولت سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے سرمایہ دوست ڈیجیٹل اصلاحاتی فریم ورک کے تحت سال 2026 میں پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کا خوش آئند اور پُراعتماد آغاز ہوا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی دوراندیش معاشی حکمتِ عملی کے باعث پاکستان کے ڈیجیٹل بینکاری نظام پر عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاک سعودی تجارتی تعلقات نئی بلندیوں پر
سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک نمایاں اور حوصلہ افزا غیر ملکی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے، جس کے تحت عالمی ڈیجیٹل آپریٹر وی اون گروپ نے موبی لنک بینک میں 20 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
اس پیش رفت کو پاکستان کے ڈیجیٹل اور اسلامی بینکاری شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
’یہ سرمایہ کاری جنوری 2025 میں کی گئی 15 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تسلسل‘
یہ سرمایہ کاری جنوری 2025 میں کی گئی 15 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تسلسل ہے، جو موبی لنک بینک کی مسلسل ترقی اور پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی ایکو سسٹم پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
موبی لنک بینک، وی اون گروپ کا ذیلی ادارہ ہے، جو دنیا بھر میں 150 ملین کنیکٹیویٹی صارفین اور 140 ملین ماہانہ ڈیجیٹل صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد موبی لنک بینک کے ایم ایس ایم ای فنانسنگ پورٹ فولیو اور ڈیجیٹل اسلامی بینکاری کو فروغ دینا ہے، جبکہ یہ اقدام موبی لنک بینک کو ایک ٹیکنالوجی پر مبنی، ڈیجیٹل نیٹو بینک کے طور پر مزید مضبوط بنائے گا۔
اس سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین، چھوٹے کاروباروں اور کم سہولت یافتہ طبقات کو ریگولیٹڈ مالی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا بھی کلیدی ہدف قرار دیا گیا ہے۔
وی اون گروپ کے مطابق یہ سرمایہ کاری اعلیٰ اثر رکھنے والے ڈیجیٹل مالیاتی ایکو سسٹمز کو مضبوط بنانے کی اس کی عالمی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
موبی لنک بینک اور جازکیش پر مشتمل مربوط ڈیجیٹل مالیاتی نظام پاکستان کے فِن ٹیک اور مالی شمولیت کے ایجنڈے کو نئی رفتار دے رہا ہے۔
اس موقع پر وی اون گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور چیئرمین موبی لنک بینک عامر ابراہیم نے کہا کہ وی اون کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں جاری ساختی تبدیلیوں پر طویل المدتی اعتماد کی واضح علامت ہے۔
عامر ابراہیم کے مطابق یہ سرمایہ کاری موبی لنک بینک اور جازکیش کے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کو مزید تقویت دے گی۔
مزید پڑھیں: ایس آئی ایف سی نے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کے فروغ کے لیے اب تک کیا کردار ادا کیا؟
2026 کی یہ پہلی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی بحالی، اصلاحاتی پیش رفت اور ترقیاتی سمت پر عالمی اعتماد کی مضبوط توثیق قرار دی جا رہی ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون اور سرمایہ دوست ماحول کے باعث پاکستان عالمی ڈیجیٹل بینکاری اور فِن ٹیک سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مرکز بن چکا ہے، جبکہ ایس آئی ایف سی کی بصیرت افروز رہنمائی میں پاکستان 2026 میں سرمایہ کاری، عالمی اعتماد اور پائیدار ترقی کے سنہرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایس آئی ایف سی خصوصی سہولت سرمایہ کاری کونسل ڈیجیٹل اصلاحاتی فریم ورک معاشی حکمت عملی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی خصوصی سہولت سرمایہ کاری کونسل ڈیجیٹل اصلاحاتی فریم ورک معاشی حکمت عملی وی نیوز پاکستان کے ڈیجیٹل ڈیجیٹل بینکاری ڈیجیٹل مالیاتی سرمایہ کاری کا کی سرمایہ کاری یہ سرمایہ کاری ایس آئی ایف سی ملین ڈالر کی اون گروپ رہا ہے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز