لیاری گینگ وار کے سابق سرغنہ رحمان ڈکیت کا بھتیجا ساتھی سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ،راؤنڈز اور چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے لیاری میں گینگ وار کے سابق سرغنہ رحمان ڈکیت کے بھتیجے کو ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق ضلع سٹی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ سرغنہ رحمان ڈکیت کے بھتیجے کو ساتھی سمیت دورانِ واردات رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ملزمان کو تھانہ کلاکوٹ کی حدود سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر واردات میں مصروف تھے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت حارث اور راشد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ گرفتار ملزم حارث لیاری گینگ وار کے سابق سرغنہ رحمان ڈکیت کا بھتیجا ہے۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ،راؤنڈز اور چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ پولیس کے مطابق برآمد موٹر سائیکل چھیننے کا مقدمہ پہلے ہی تھانہ کلاکوٹ میں درج ہے۔ ترجمان ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے مطابق دونوں ملزمان اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیا گیا، جبکہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرغنہ رحمان ڈکیت گینگ وار کے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ