کیمپ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اہلِ علاقہ نے مجلس وحدت مسلمین، بالخصوص ڈاکٹر کریم پتافی کی انسانیت دوست خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے منتظمین اور ڈاکٹروں کا دلی شکریہ ادا کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ڈیرہ غازیخان کے زیراہتمام  نواحی علاقے بستی لشکر علی باغلیانی، ٹھل سیرک میں فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا جس میں 300 سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، مفت ٹیست اور ادویات دی گئیں، معروف سماجی و طبی شخصیت ڈاکٹر کریم پتافی نے سندھ کے دور دراز علاقے سے سفر کر کے محروم اور پسماندہ علاقے کے عوام کو طبی سہولیات فراہم کیں۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر رحمت رضا کھوسہ بھی موجود تھے جنہوں نے مریضوں کی بھرپور انداز میں خدمت کی۔میڈیکل کیمپ کے دوران 100 مریضوں کے مختلف طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے جن میں ہیپاٹائٹس، شوگر اور دیگر بیماریوں کے ٹیسٹ شامل تھے، جس سے بروقت تشخیص ممکن ہو سکی۔

اس فلاحی سرگرمی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ضلع ڈیرہ غازی خان کے صدر سید اظہر کاظمی نے کی، جبکہ کیمپ کے انتظامی امور منیر حسین پاشا نے نہایت منظم اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔ کیمپ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اہلِ علاقہ نے مجلس وحدت مسلمین، بالخصوص ڈاکٹر کریم پتافی کی انسانیت دوست خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے منتظمین اور ڈاکٹروں کا دلی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور صحت جیسے بنیادی شعبے میں سہولیات کی فراہمی کے لیے آئندہ بھی فری میڈیکل کیمپس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میڈیکل کیمپ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود