اوورسیز پاکستانیزکےلئےکھیلوں کوفروغ دینا قابل تحسین عمل ہے، ندیم اختر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
معروف سماجی شخصیت اوورسیزرہنما صدر پی او اے ایف انٹرنیشنل سعودی عرب، فوکل پرسن سفارہ پاکستان الریاض سعودی عرب چوہدری ندیم اختر گجرنے کہا کہ دیارغیرمیں بسنے والے اوورسیز پاکستانیزکی ذہنی جسمانی صحت اور تفریح کیلئے کھیلوں کو فروغ دینا ایک قابل تحسین عمل ہے۔ اس سے اوورسیز پاکستانی کمیونٹی میں مثبت سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ بات انھوں نے الأحساء سعودی میں حماد میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائل میں بطورمہمانِ خصوصی تقریب تقسیم انعامات میں کہی۔ انھوں نے ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم کے کپتان چوہدری نثار احمد اور رنر اپ ٹیم کے کپتان محمد الیاس کو ٹرافیاں دیں اورٹورنامنٹ کے انعقاد پربابرہنج ،چوہدری نثار احمد، محمد نواز، ابرار احمد کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں جتنے والی ٹیم کی الکورنیش المغربی کمپنی کے آنر محمد السعدون نے چوہدری نديم اختر گجرکے اعزازمیں تمام کھلاڑیوں سمیت اپنے فارم ہاؤس میں پرتکلف عشائیہ دیا۔ جس میں سابقہ امیدوار ایم پی اے حافظ شعیب انورچٹھہ، بابرہنج، چوہدری نثار احمد، ابرار احمد اور دیگر کھلاڑیوں کے علاوہ مختلف کاروباری کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی، عشائیہ کے آخر میں محمد السعدون نے چوہدری نديم اختر گجر اور کمیونٹی کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور کہا پاکستان سعودیہ کی لازوال محبت اور برادرانہ تعلق پر ہمیں فخر ہے اور یہ مضبوط رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ چوہدری نديم اختر گجر نے محمد السعدون کا پرتکلف دعوت اور عزت افزائی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور مزید کہا اس دعوت سے بھی سعودی عوام کے دل میں پاکستانیوں کاکس قدر احترام اور محبت ہے اس کا اظہار ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔