تحریک انصاف کا 8 فروری کو شیڈول احتجاج کا پلان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پی ٹی آئی کے پلان کے مطابق پنجاب میں احتجاج کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کریں گے جبکہ خیبر پختونخوا میں احتجاج کے معاملات شاہد خٹک دیکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لیے صوبائی سطح پر احتجاج کی قیادت کا تفصیلی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے پلان کے مطابق پنجاب میں احتجاج کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کریں گے جبکہ خیبر پختونخوا میں احتجاج کے معاملات شاہد خٹک دیکھیں گے۔ اسی طرح بلوچستان میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت محمود اچکزئی کریں گے جبکہ سندھ میں احتجاج کے معاملات علامہ ناصر عباس دیکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اپنے سندھ کے حالیہ دورے میں احتجاج سے متعلق تمام معاملات فائنل کریں گے ، پروگرام کے مطابق آٹھ فروری کو پورے پاکستان میں احتجاج ہوگا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، البتہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ مذاکرات کرتے رہیں لیکن احتجاج ہر صورت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاج کی قیادت خیبر پختونخوا سہیل آفریدی احتجاج کے کے مطابق کریں گے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔