Islam Times:
2026-07-24@08:17:45 GMT

اس بار مالک اشتر واپس نہیں پلٹے گا!

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

اس بار مالک اشتر واپس نہیں پلٹے گا!

اسلام ٹائمز: مرحوم محمد حسنین ہیکل (مشہور مصری صحافی) کے مطابق، جنہوں نے ۱۳۵۸ میں امام خمنی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ میں نے امام خمینی کو اسلام کے آغاز کے دور میں رسول خدا ﷺ کے اصحاب میں سے ایک پایا، جو کسی معجزے سے وقت کی سرنگ پار کر کے آج کے زمانے میں آ گیا ہو تاکہ علیؑ کے اُن سپاہیوں کی قیادت کرے جو ان کی شہادت اور اہل بیتؑ کے قتل کے بعد تنہا ہو گئے تھے، اور میں ان میں یہ اہلیت دیکھتا ہوں.

..” “ولایت فقیہ ایک بارودی سرنگ تھی جو علیؑ نے صدرِ اسلام میں بوئی اور خمینی نے بیسویں صدی میں استکبار کے قدموں تلے اڑا دی۔” تجزیہ: حسین شریعتمداری

۱۔ رہبرِ معظم انقلاب نے شہداء کے کچھ خاندانوں سے ملاقات میں، گزشتہ ہفتے تاجروں کے اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ “بازار اور تاجر طبقہ نظام اور اسلامی انقلاب کے سب سے وفادار طبقوں میں سے ہیں اور ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے کاروبار اور تجارت کے نام پر اسلامی جمہوریہ کے مقابل کھڑا نہیں ہوا جا سکتا... آج کا دکاندار صحیح کہتا ہے کہ ان حالات میں وہ کاروبار نہیں کر سکتا، ملک کے ذمہ دار بھی یہ بات مانتے ہیں اور محترم صدر اور دوسرے اعلیٰ حکام اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں... لیکن جو بات قابل قبول نہیں وہ یہ ہے کہ کچھ بھڑکائے ہوئے یا دشمن کے کرائے کے لوگ تاجروں کے پیچھے کھڑے ہوں اور اسلام، ایران اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائیں... ذمہ داروں کو معترضین سے بات کرنی چاہیے لیکن ہنگامہ کرنے والے سے بات کرنے کا فائدہ نہیں، بلکہ انہیں اس کی وہی جگہ جس کے وہ قابل ہے۔

اس سلسلے میں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ بے محل نہیں۔ پڑھئے!
۲۔ جنگِ صفین کے دوران مالک اشتر معاویہ کے خیمے تک پہنچ چکے تھے اور لشکرِ اسلام مکمل فتح سے بس تھوڑے فاصلے پر تھا۔ اچانک حکم آیا کہ “مالک! جنگ چھوڑ دو اور واپس آ جاؤ۔” یہ حکم علیؑ کی طرف سے تھا اور اطاعت واجب تھی۔ مالک واپس پلٹ آئے۔ لیکن میدان کے دوسری طرف ایک اور واقعہ ہو چکا تھا، ایسا واقعہ جو تاریخ کا رخ بدل سکتا تھا اور بدل بھی گیا۔ معاویہ نے جب اپنی شکست یقینی دیکھی تو اپنے مشیر سے تدبیر پوچھی، اور عمرو عاص نے شام کے لشکر کو حکم دیا کہ قرآن کے اوراق نیزوں پر بلند کر دو! اشعث بن قیس، جو علیؑ کے لشکر کا ایک کمانڈر تھا اور معاویہ سے خفیہ تعلق بھی رکھتا تھا، چیخ پڑا کہ سامنے والا لشکر بھی مسلمان ہے اور قرآن کا پیرو ہے، اس لیے جنگ جاری رکھنا جائز نہیں۔ اشعث کے اشتعال دلانے پر علیؑ کے لشکر کے کچھ لوگ حضرتؑ پر ٹوٹ پڑے اور جنگ روکنے کا مطالبہ کرنے لگے، چنانچہ امیرالمؤمنینؑ نے اپنے لشکر کے کمانڈر مالک اشتر کو واپس بلانے کا حکم دیا۔

۳۔ جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا اور خمینی کبیر کی کوششوں سے وہ وعدہ پورا ہوا جو اللہ تعالیٰ نے علیؑ کے دور کی واپسی کے بارے میں دیا تھا، تو زمانے کا پہیہ ایک نئی سمت میں چلنے لگا۔ معاویہ جیسے خواص آج بھی تھے، مگر اس بار تعداد میں زیادہ اور طاقت میں کہیں مضبوط۔ لیکن ہمارے امام نے فرمایا تھا کہ میں جرات کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ایرانی قوم اور اس کی کروڑوں کی عوامی جماعت، رسولِ خدا ﷺ کے زمانے کے حجاز کے لوگوں سے اور امیرالمؤمنینؑ اور حسین بن علیؑ کے دور کے کوفہ اور عراق کے لوگوں سے بہتر ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے مرحوم محمد حسنین ہیکل (مشہور مصری صحافی) کے مطابق، جنہوں نے ۱۳۵۸ میں امام خمنی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ میں نے امام خمینی کو اسلام کے آغاز کے دور میں رسول خدا ﷺ کے اصحاب میں سے ایک پایا، جو کسی معجزے سے وقت کی سرنگ پار کر کے آج کے زمانے میں آ گیا ہو تاکہ علیؑ کے اُن سپاہیوں کی قیادت کرے جو ان کی شہادت اور اہل بیتؑ کے قتل کے بعد تنہا ہو گئے تھے، اور میں ان میں یہ اہلیت دیکھتا ہوں...” “ولایت فقیہ ایک بارودی سرنگ تھی جو علیؑ نے صدرِ اسلام میں بوئی اور خمینی نے بیسویں صدی میں استکبار کے قدموں تلے اڑا دی۔”

۴۔ ان دنوں امریکہ اور صہیونی حکومت، جو ۱۲ روزہ جنگ میں (اپنے بقول ۲۰ سالہ منصوبہ بندی کے باوجود) سخت شکست کھا چکے ہیں، جنگِ صفین کی کہانی دوبارہ دہرا رہے ہیں، اور اس بار “عوام کے لئے معاشی سختی” کو اپنے کرائے کے کارندوں کے ذریعے نیزوں پر بلند کر رہے ہیں۔ معاشی تنگی ایک حقیقت ہے، مگر کیا قرآن کے اوراق حق نہیں تھے؟ جیسے قرآن کے اوراق نیزوں پر فریب دینے کے لیے اٹھائے گئے تھے، اسی طرح اس حقیقت کو بھی فریب کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یقین نہیں آتا؟ کرائے کے ہنگامہ کرنے والوں کے نعروں پر غور کریں! وہ بالکل صہیونی حکومت کی نامکمل خواہشات کو زبان دے رہے ہیں: “نہ غزہ، نہ لبنان”۔ یہ وہی نعرہ ہے جو ۸۸ کے امریکی اسرائیلی فتنے کے دوران صہیونی حکومت کی وزارت خارجہ کے فارسی ویب سائٹ پر فتنے برپا کرنے والوں کو سکھایا گیا تھا۔

ٹھیک ہے، نہ غزہ نہ لبنان!! مگر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے، فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کی شہادت، اور اس سرزمین کے ایک ہزار ایک سو سے زائد لوگوں کی شہادت کے بارے میں یہ کیا کہتے ہیں؟ نعرہ ہے: “میزائل چھوڑ دو، روٹی اور ہوا کی فکر کرو!” یعنی میزائل سے دست بردار ہو جاؤ! بالکل وہی چیز جس نے ۱۲ روزہ جنگ میں صہیونی حکومت اور امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور دو ایٹمی طاقتوں کو، جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود، شکست دی۔ قرآن جلانا، بسیج مراکز پر حملہ، سپاہ کے خلاف گندی اور رکیک گالیاں... ان میں سے کون سی بات عوام کی معاشی حالت کے بارے میں ہے؟!

۵۔ بہت سی خبروں میں سے چند نکات کو سامنے رکھتے ہیں:
۔ صہیونی حکومت کا ٹی وی چینل ۱۵: اسرائیل کو ایران میں احتجاجات کو منظم کرنا اور آگے بڑھانا چاہیے، ہنگاموں کی حمایت کرنی چاہیے اور پھر وہ بھرپور جنگ چھیڑنی چاہیے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔
۔ صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت: ایران میں معترضین اسرائیل سے مدد اور حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔
۔ نفتالی بینٹ، سابق صہیونی وزیر اعظم: ہم ایران میں شورشوں کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی مدد بے حساب کر سکتے ہیں۔
۔ فارسی چینل “انٹرنیشنل” (جس کا دفتر غزہ جنگ کے دوران تل ابیب میں ہونے کا انکشاف ہوا): سڑکوں پر نکل آؤ تاکہ اسرائیل آسانی سے ایران پر فوجی حملہ کر سکے۔
۔ ولید گادبان، اقوام متحدہ میں صہیونی نمائندگی کے سیاسی مشیر: شورش کے لیے سڑکوں پر آؤ، اسرائیل تمہاری مدد کرے گا۔
۔ موساد کے ترجمان کی فارسی میں ٹویٹ: آؤ مل کر سڑکوں پر نکلیں، وقت آ گیا ہے۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں، صرف دور سے نہیں بلکہ تمہارے ساتھ ساتھ ہیں۔
۔ ڈونلڈ ٹرمپ: “اگر ایران پرامن معترضین پر گولی چلائے اور انہیں تشدد کے ساتھ مارے تو امریکہ ان کی مدد کے لیے آئے گا۔ ہم مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
اور آخر میں کل مائیک پومپیو، ٹرمپ کے پہلے دور کے وزیر خارجہ نے بڑا اعتراف کیا اور کہا کہ “موساد کے عناصر ایران کی ہنگامہ آرائی میں موجود ہیں۔”

۶۔ تمام شواہد اور دستاویزات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ:
الف: ہنگاموں کی قیادت صہیونی حکومت کے ہاتھ میں ہے اور ہنگامہ کرنے والے اس کے کرائے کے کارندے ہیں۔
ب: امریکہ اور صہیونی حکومت، ۱۲ روزہ جنگ میں اپنی شکست سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ج: ہنگامہ کرنے والوں کی کم تعداد بتاتی ہے کہ ۱۲ روزہ جنگ کے دوران دکھائی دینے والا عوامی اتحاد اب بھی مضبوط اور محفوظ ہے۔
د: ہنگامہ کرنے والوں کی کم تعداد واضح کرتی ہے کہ صہیونی حکومت کا تیر اس فتنے میں پتھر سے ٹکرا گیا ہے۔ یہ بات ان کے حکام کے لہجے کی تبدیلی سے بھی معلوم ہوتی ہے۔
ہ: شاید بات سخت لگے، لیکن کچھ شواہد کی بنیاد پر عوام کی معاشی تنگی اور روز بروز مہنگائی کا بڑھنا فطری نہیں لگتا، اور یہ امکان سنجیدگی سے سامنے آتا ہے کہ یہ بے لگام مہنگائی اور معاشی دباؤ ایک چھپی ہوئی سازش ہو سکتی ہے جس کا مقصد قوم کو بے بس کرنا، قومی اتحاد کو توڑنا اور آخرکار دشمن کے منصوبے کا ایک حصہ بنانا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ۸۸ کے امریکی-اسرائیلی فتنے کے کچھ کردار اور ۱۴۰۱ کے اسرائیلی فتنے کے حامی، بعض انتظامی جگہوں پر لگائے گئے ہیں۔

۷۔ کل رہبرِ معظم انقلاب نے یہ کہہ کر کہ احتجاج بجا ہے لیکن احتجاج اور ہنگامہ آرائی الگ چیزیں ہیں، تاکید فرمائی کہ “ذمہ داروں کو معترض سے بات کرنی چاہیے لیکن ہنگامہ کرنے والے سے بات کرنے کا فائدہ نہیں بلکہ اسے اس کی وہی جگہ ہے جس کے وہ قابل ہے۔” اسی لیے دشمنوں اور ان کے کارندوں سے کہنا چاہیے کہ “ایک بار پھر مالک واپس نہیں آئے گا...”

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صہیونی حکومت ہنگامہ کرنے کرنے والوں کی شہادت کرائے کے کے دوران رہے ہیں کے بعد کے دور کر رہے سے بات اور اس کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ